بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ساز اور میوزک کے بغیر گانے سننے کا حکم۔ مروجہ عشقیہ اشعار گانے اور سننے کا حکم


سوال

وہ گانے جن میں میوزک نہ ہو صرف اشعار ہوں اور مرد کی آواز میں ہو اور کوئی لغو بات نہ ہو تو کیا ان گانوں کو سننا جائز ہے یا نہیں؟ مروجہ عشقیہ اشعار لغو اشعار کے زمرے میں آئیں گے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ موسیقی، گانا گانا ، گانابجانا اور سننا  شریعت میں  حرام ہے، رہی بات ساز اور میوزک کے بغیر گانے کے اشعار گانے یا سننے کی تو اس کا مدار ان اشعار کی معنویت پر ہے،لہٰذا جو اشعار کفر و شرک یا بے حیائی و گناہ کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا گانا اور سننا بھی  حرام ہے، اور ایسے اشعار جو حمد و نعت یا حکمت و دانائی کی باتوں پر مشتمل ہوں ان کا ترنم کے ساتھ پڑھنا جائز ہے۔

 آج کل کے فساق و فجار گویّوں کے مروجہ عشقیہ گیت اور گانے حکمت و دانائی پر مشتمل نہ ہونے کی وجہ سے لغو شمار ہوں گے، بلکہ مروّجہ عشقیہ اشعار سے نفسانی خواہشات ابھرتی ہیں اور گناہ کی رغبت پیدا ہوتی ہے، اس لیےاس طرح کے گانوں کو بغیر ساز اور میوزک گنگنا اور سننا بھی ناجائز ہے، حدیث میں ایسے ہی گانے کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ  وہ دل میں نفاق پیدا کرتا ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَيَتَّخِذَهَا هُزُوًا أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُهِينٌ۔[ لقمان : 6 ]"

ترجمہ: اور بعض آدمی  ایسا  بھی ہے جو ان باتوں کا خریدار بنتا ہے جو اللہ سے غافل کرنے والی ہیں، تاکہ اللہ کی راہ سے بے سمجھے بوجھے  گم راہ کرے اور اس کی ہنسی اڑادے ، ایسے لوگوں کے لیے ذلت کا عذاب ہے۔(بیان القرآن)

تفسير ابن كثيرمیں ہے:

"قال ابن جرير: حدثني يونس بن عبد الأعلى، أخبرنا ابن وهب، أخبرني يزيد بن يونس، عن أبي صخر، عن أبي معاوية البجلي، عن سعيد بن جبير، عن أبي الصهباء البكري، أنه سمع عبد الله بن مسعود -وهو يسأل عن هذه الآية:وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ لِيُضِلَّ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ- فقال عبد الله: الغناء، والله الذي لا إله إلا هو، يرددها ثلاث مرات."

(سورة لقمان (31) : الآيات 1 إلى 5، 6/ 295، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"وقال في تبيين المحارم: واعلم أن ما كان حراما ‌من ‌الشعر ما فيه فحش أو هجو مسلم أو كذب على الله تعالى أو رسوله - صلى الله عليه وسلم - أو على الصحابة أو تزكية النفس أو الكذب أو التفاخر المذموم، أو القدح في الأنساب."

(کتاب الحظر والإباحة، قبیل فصل في اللبس،ج:6،ص:350،ط:سعيد)

مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:

 "«وعن نافع - رحمه اللَّه - قال: كنت مع ابن عمر في طريق، فسمع مزمارا، فوضع أصبعيه في أذنيه وناء عن الطريق إلى الجانب الآخر، ثم قال لي بعد أن بعد: يا نافع! هل تسمع شيئا؟ قلت: لا، فرفع أصبعيه من أذنيه، قال: كنت مع رسول اللَّه فسمع صوت يراع، فصنع مثل ما صنعت. قال نافع: فكنت إذ ذاك صغيرا» . رواه أحمد، وأبو داود.

وفي فتاوى قاضي خان: أما استماع صوت الملاهي كالضرب بالقضيب ونحو ذلك حرام ومعصية لقوله عليه السلام: " «استماع الملاهي معصية، والجلوس عليها فسق، والتلذذ بها من الكفر» " إنما قال ذلك على وجه التشديد وإن سمع بغتة فلا إثم عليه، ويجب عليه أن يجتهد كل الجهد حتى لا يسمع لما روي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أدخل أصبعه في أذنيه".

( باب البيان والشعر،الفصل الثالث، ج:9، ص:51، ط: مكتبه حنيفيه)

فقط والله اعلم 


فتویٰ نمبر : 144702101471

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں