
میں نے سات زمینوں کے بارے میں مختلف علماء کی تحریرات پڑھی ہیں، اور سب نے یہی لکھا ہے کہ سات زمینوں کا محل وقوع اور کیفیت کا علم کسی کو نہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ سات زمینوں کے بارے میں جو احادیث آئی ہیں، ان میں جو باتیں ہیں، علماء اسے بیان کیوں نہیں کرتے ؟
کیا کسی صحیح حدیث میں سات زمینوں کے بارے میں نہیں ہے کہ جس سے سات زمینوں کی کیفیت معلوم ہوتی ہو؟
واضح رہے کہ قرآن کریم میں یہ بات تو صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں اسی طرح زمینوں کی تعداد بھی کل سات ہے،نیز احادیث صحیحہ سے بھی صرف یہی معلوم ہوتا ہے کہ زمینیں سات ہیں،باقی ان کی کیفیت وضع کہ وہ کس طرح ہیں ؟ آیا اوپر نیچے ہیں؟ اور ان میں ہر دو زمین کے درمیان فاصلہ ہے،یا تہہ بتہہ ہیں ، ان میں کوئی مخلوقات بھی رہتی ہیں یا نہیں؟ اور دیگر احوال سے متعلق قرآن ِمجید ساکت ہے،اور احادیث صحیحہ میں بھی سات زمینوں کی کیفیت کے بارے کوئی تفصیل نہیں ملتی ،اورچوں کہ ہمارا کوئی دِینی یا دُنیوی فائدہ بھی اس تفصیل وابستہ نہیں ہے،اس لیے صرف اتنی بات پر ایمان رکھناکہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات ہیں،کافی ہے۔
قرآنِ مجید میں ہے:
﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ﴾ [الطلاق: 12]
ترجمہ: ” اللہ ایسا ہے جس نے سات آسمان پیدا کئے اور ان ہی کی طرح زمین بھی ۔“(بیان القرآن)
معارف القرآن میں حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب رحمة اللہ علیہ آیتِ بالا کے ذیل میں فرماتے ہیں:
”اس آیت سے اتنی بات تو واضح طور پر ثابت ہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں ایسی ہی زمین بھی سات ہیں، پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع و صورت میں ہیں، اوپر نیچے طبقات کی صورت میں تہ بر تہ ہیں ، یا ہر زمین کا مقام الگ الگ ہے،اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں سے ہر دو آسمان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے،اور ہر آسمان میں الگ الگ فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ اور ہوا فضا وغیرہ ہیں، اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقات زمین ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں، قرآن مجید اس سے ساکت ہے اور روایاتِ حدیث جو اس بارے میں آئی ہیں ان میں اکثر احادیث میں ائمۂ حدیث کا اختلاف ہے، بعض نے ان کو صحیح وثابت قرار دیا ہے، بعض نے موضوع ومنگھڑت تک کہہ دیا ہے ،اور عقلا ًیہ سب صورتیں ممکن ہیں، اور ہماری کوئی دِینی یا دُنیوی ضرورت اس کی تحقیق پر موقوف نہیں، نہ ہم سے قبر میں یا حشر مین اس کا سوال ہوگا کہ ہم ان سات زمینوں کی وضع وصورت اور محلِ وقوع اور اس میں بسنے والی مخلوقات کی تحقیق کریں، اس لیے اسلم صورت یہ ہے کہ بس اس پر ایمان لائیں، اور یقین کریں کہ زمینیں بھی آسمانوں کی طرح سات ہی ہیں، اور سب کو اللہ تعالی نے اپنی قدرتِ کاملہ سے پیدا فرمایا ہے، اتنی ہی بات قرآن نے بیان کی ہے، جس کو قرآن نے بیان کرنا ضروری نہیں سمجھا ہم بھی اس کی فکر وتحقیق میں کیوں پڑیں، حضرات سلفِ صالحین کا ایسی صورتوں میں یہی طرز عمل رہا ہے۔“
( سورۃ طلاق،ج: 8، ص: 494 - 495، ط: مکتبۂ معارف القرآن)
روح المعاني ميں هے:
"فقال الجمهور: هي هاهنا في كونها سبعا وكونها طباقا بعضها فوق بعض بين كل أرض وأرض مسافة كما بين السماء والأرض وفي كل أرض سكان من خلق الله عز وجل لا يعلم حقيقتهم إلا الله تعالى ... وقال الضحاك: هي في كونها سبعا بعضها فوق بعض لا في كونها كذلك مع وجود مسافة بين أرض وأرض ... وقال أبو صالح: هي في كونها سبعا لا غير فهي سبع أرضين منبسطة ليس بعضها فوق بعض يفرق بينها البحار، ويظل جميعها السماء و قيل: من الأقاليم السبعة وهي مختلفة الحرارة والبرودة والليل والنهار إلى أمور أخر ... وقيل: المثلية في الخلق لا في العدد ولا في غيره فهي أرض واحدة مخلوقة كالسماوات السبع، وأيد بأن الأرض لم تذكر في القرآن إلا موحدة،ورد بأنه قد صح من رواية البخاري وغيره «اللهم رب السماوات السبع وما أظللن ورب الأرضين السبع وما أقللن» الحديث، وكذاصح «من غصب قيد شبر من أرض طوقه من سبع أرضين»...وليس في ذلك ما يصادم ضروريا من الدين أو يخالف قطعيا من أدلة المسلمين، ولعل القول بذلك التعدد هو المتبادر من الآية، وتقتضيه الأخبار، ومع هذا هو ليس من ضروريات الدين فلا يكفر منكره أو المتردد فيه لكن لا أرى ذلك إلا عن جهل بما هو الأليق بالقدرة والأخرى بالعظمة، والله تعالى الموفق للصواب."
(سورة الطّلاق، ج:14، ص:337-340، ط:دار الكتب العلمية)
عمدةالقاری میں ہے:
"أن سعيد بن زيد رضي الله عنه قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم - يقول من ظلم من الأرض شيئا طوقه من سبع أرضين ... وفيه دليل على أن الأرضين سبع كما قال تعالى {ومن الأرض مثلهن}."
(كتاب في اللقطة، باب إثم من ظلم شيئا من الأرض، ج:12، ص:298، ط:دار الفكر)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144605101457
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن