
معارف القرآن میں ہے کہ سات زمینوں کی کیفیت اور وضع و قطع کا علم کسی کو نہیں ، بہت سی روایات جو صحابہ کرام سے منقول ہیں ان سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری زمین ہی کی طرح زمینیں ہیں اور ان میں مخلوقات آباد ہیں، اور اسی طرح بہت سے مفسرین کا بھی خیال ہے کہ یہ زمینیں خلاء میں کسی اور جگہ ہیں، اور ایک روایت میں پڑھا کہ عرش کو اٹھانے والے فرشتے کے پیر ساتویں زمین پر ہیں اس سے بھی ایسا لگتا ہے کہ ساتویں زمین کا مقام کسی اور جگہ ہے، لیکن صحیح بخاری کی ایک حدیث سے ایسا لگتا ہے کہ یہ ہماری زمین کے نیچے طبقات کی صورت میں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں، حدیث کا مفہوم ہے کہ کسی شخص نے ناحق کسی کی تھوڑی سی زمین بھی لے لی تو قیامت کے دن اسے سات زمینوں تک دھنسایا جائے گا، اس حدیث کا اصل مطلب کیا ہے؟ اور اس میں جو سات زمینوں کا کہا گیا ہے اس سے وہ سات زمینیں مراد ہیں جن کے بارے میں قرآن اور صحابہ کے اقوال میں ہے یا زمین کی سات تہیں؟
اور جہنم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سات زمینوں کے نیچے ہے،اور بعض صحابہ سے منقول ہے کہ سات سمندروں کے نیچے ہے اور کچھ جگہ پڑھا کہ ہماری اس زمین کے تہہ میں ہے، اس بارے میں وہ ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم ہے کہ صحابہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور انہوں نے ایک آواز سنی آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا کے یہ اس پتھر کی آواز تھی جو 70 سال پہلے جہنم میں گرا تھا اور وہ آج اس کی تہہ میں پہنچا ہے ،وہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے یہ آواز زمین پر سنی تھی اس لیے یہ لگتا ہے کہ جہنم ہماری اس زمین کے نیچے ہے۔راہ نمائی فرمائیں کہ کیا یہ بات صحیح ہے؟ ایسے میں بہت سے اشکالات ہوتے ہیں کہ جب جہنم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ہماری زمین کے نیچے ہے تو پھر زمینوں کے بارے میں یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ ان کی وضع و قطع کا صحیح علم کسی کو نہیں؟ کیوں کہ جہنم تو ساتویں زمین کے نیچے ہے،اور پتھر کے جہنم کی ستر سال کی گہرائی میں گرنے کے بعد اس کی آواز زمین تک کیسے پہنچ گئی اور جہنم ہماری اس زمین کے نیچے کیسے ہو سکتی ہے؟ کیوں کہ جہنم کی جو گہرائی اس حدیث میں بیان کی گئی ہے اور احادیث میں جہنم کا جتنا بڑا ہونا بیان کیا گیا ہے کہ جہنم کے سات طبقات ہیں اور اس میں زقوم کا درخت ہے وغیرہ وغیرہ اس حساب سے ہماری یہ زمین بہت چھوٹی ہے۔ جہنم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ زمین کی تہہ میں ہے اور مشاہدہ ہے کہ زمین گول ہے اور گول ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی ایک حد تک ہے اور اس کی تہہ میں اس کا کور ہے تو جہنم اس کی تہہ میں یا اس کے نیچے کیسے ہو سکتی ہے؟ کیوں کہ جہنم تو بہت زیادہ بڑی اور اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے، اور اگر ساتویں زمین کا مقام کسی اور جگہ ہے اور اس کے نیچے جہنم ہے تو کیا جہنم کی گہرائی اور جہنم جتنی بڑی ہے ؟اس حساب سے کیا ساتویں زمین اتنی بڑی ہوسکتی ہے؟
واضح رہے کہ جس طرح آسمان سات ہیں ایسی ہی زمینیں بھی سات ہیں، پھر یہ سات زمینیں کہاں کہاں اور کس وضع وصورت میں ہیں؟ اوپر نیچے طبقات کی صورت میں تہہ بہ تہہ ہیں یا ہر زمین کا مقام الگ الگ ہے؟ اگر اوپر نیچے طبقات ہیں تو کیا جس طرح سات آسمانوں میں سے ہر دو آسمان کے درمیان بڑا فاصلہ ہے، اور ہر آسمان میں الگ الگ فرشتے آباد ہیں اسی طرح ایک زمین اور دوسری زمین کے درمیان بھی فاصلہ اور فضا وغیرہ ہے؟ اور اس میں کوئی مخلوق آباد ہے یا یہ طبقاتِ زمین ایک دوسرے سے پیوستہ ہیں؟ قرآن مجید اس جیسے اُمور کی تفصیل سے ساکت ہے ، اوراحادیثِ صحیحہ میں بھی اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی، اس مسئلے کا تعلق اصول ِعقائد اور شریعت کی بنیادی موضوعات میں سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک سائنسی اور جعرافیائی مسئلہ ہے، اسےاسی اعتبار سے دیکھا جائے۔
نیز جہنم کے وقوع نیز جہنم کے وقوع اور فرشتوں کے عرش اٹھانے والی روایت کی تطبیق و توجیہ میں اہل علم کے آراءمختلف ہیں، جن میں سے ایک جہت کو متعین کرنا مشکل ہے، ان روایات میں لوگوں کے ذہن کو قریب کر کے سمجھانے کے لیے تشبیہات اور اشارات ذکر کیے گئے ہیں، ورنہ ان مغیبات کی تفصیلات اور ان کا حقیقی طور پر ادراک کرنا ہمارے لیے مشکل ہے، ان پرہر ایک مسلمان کو ویسا ہی ایمان لانا چاہیے جیسا احادیث میں بتا دیا گیا ہے۔
قرآنِ مجید میں ہے:
﴿اللَّهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ﴾ [الطلاق: 12]
ترجمہ: ”اللہ وہ ہے جس نے بنائے سات آسمان، اور زمین بھی اتنی ہی۔“(از معارف القرآن)
مسند أبو يعلى الموصلي میں ہے:
"حدثنا عمرو الناقد، حدثنا إسحاق بن منصور، حدثنا إسرائيل، عن معاوية بن إسحاق، عن سعيد المقبرى، عن أبى هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أذن لي أن أحدث عن ملك قد مرقت رجلاه الأرض السابعة، والعرش على منكبه، وهو يقول: سبحانك أين كنت وأين تكون."
(حديث نمبر: 6619، صفحہ نمبر: 29/9، دار الحدیث القاہرہ)
صحیح مسلم میں ہے:
"عن أبي هريرة، قال:كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. إذ سمع وجبة. فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "تدرون ما هذا؟ " قال قلنا: الله ورسوله أعلم. قال "هذا حجر رمي به في النار منذ سبعين خريفا. فهو يهوي في النار الآن، حتى انتهى إلى قعرها."
(صحیح مسلم، حدیث نمبر:2949، صفحہ:1345، دار التاصیل)
سنن ابی داود میں ہے:
"حدثنا أحمد بن حفص بن عبد الله، حدثني أبي، حدثني إبراهيم ابن طهمان، عن موسى بن عقبة، عن محمد بن المنكدرعن جابر بن عبد الله، عن النبي-صلى الله عليه وسلم، قال: " أذن لي أن أحدث عن ملك من ملائكة الله من حملة العرش: إن ما بين شحمة أذنه إلى عاتقه مسيرة سبع مئة عام."
(سنن ابو داود، حدیث نمبر: 4694، صفحہ: 239/5، موسسة الريان، بيروت)
المستدرک علی الصحیحین میں ہے:
"حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالويه، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفان ومحمد بن كثير: قالا حدثنا مهدي بن ميمون حدثنا محمد بن عبد الله بن أبي يعقوب، عن بشر بن شغاف، عن عبد الله بن سلام؛ قال: وكنا جلوسا في المسجد يوم الجمعة، فقال: إن أعظم أيام الدنيا يوم الجمعة، فيه خلق آدم، وفيه تقوم الساعة، وإن أكرم خليقة الله على الله أبو القاسم صلى الله عليه وسلم، قال: قلت: رحمك الله، فأين الملائكة؟ قال: فنظر إلي وضحك وقال: يا ابن أخي هل تدري ما الملائكة؟ إنما الملائكة خلق كخلق السماء وخلق الأرض وخلق الرياح وخلق السحاب وخلق الجبال، وسائر الخلق، التي لا تعصى الله شيئا، وإن أكرم خليقة على الله أبو القاسم صلى الله عليه وسلم، وإن الجنة في السماء، وإن النار في الأرض، فإذا كان يوم القيامة بعث الله الخليقة أمة أمة، ونبيا نبيا، حتى يكون أحمد وأمته آخر الأمم مركزا، قال: ثم يوضع جسر على جنهم، ثم ينادي مناد: أين أحمد وأمته؟ قال: فيقوم فتتبعه أمته برها وفاجرها، قال: فيأخذون الجسر، فيطمس الله أبصار أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال ويمين، وينجو النبي صلى الله عليه وسلم والصالحون معه، فتلقاهم الملائكة ربنا نبوئهم منازلهم من الجنة على يمينك وعلى يسارك، حتى ينتهي إلى ربه عز وجل، فيلقى له كرسي عن يمين الله عز وجل، ثم ينادي مناد: أين عيسى وأمته؟ فيقوم فتتبعه أمته برها وفاجرها، فيأخذون الجسر، فيطمس الله أبصار أعدائه، فيتهافتون فيها من شمال، ويمين، وينجو النبي صلى الله عليه وسلم والصالحون معه، فتلقاهم الملائكة؛ ربنا نبوئهم منازلهم في الجنة على يمينك وعلى يسارك، حتى ينتهي إلى ربه، فيلقى له كرسي من الجانب الآخر، قال: ثم يتبعهم الأنبياء والأمم حتى يكون آخرهم نوحا، رحم الله نوحا۔ هذا حديث صحيح الإسناد."
(كتاب الأهوال، ٩/ ٤٠٩، ط: دار الرسالة العالمية)
وفیه ايضاً:
"حديث عبد الله بن عمرو عن النبي صلى الله عليه وسلم: إن تحت البحر نارًا، وتحت النار بحرًا، فأما النارُ فإنها تحتَ السابعة."
"سمعت جابر بن عبد الله الأنصاري رضي الله عنهما، يقول: رأيت الدخان من مسجد الضرار حين انهار. هذا إسناد صحيح وقد حدثني جماعة من أصحابنا الغرباء أنهم عرفوا هذا المسجد وشاهدوا هذا الدخان، وقد قدمت الرواية الصحيحة أن جهنم تحت الأرض السابعة."
(كتاب الأهوال، ٩/ ٤٦٣، ط: دار الرسالة العالمية)
تفسیر مظہری میں ہے :
"إن جهنم تحت الأرض السابعة السفلى أخرج أبو الشيخ فى العظمة والبيهقي من طريق أبى الزعراء عن عبد الله قال الجنة فى السماء السابعة والنار فى الأرض السابعة السفلى، وأخرج البيهقي فى الدلائل ... عن عبد الله بن سلام الجنة فى السماء والنار فى الأرض، وأخرج ابن جرير فى تفسيره عن معاذ قال سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم من أين يجاء بجهنم يوم القيمة قال لجاء بها من الأرض السابعة بها ألف زمام لكل زمام سبعون ألف ملك."
(التفسير المظهري، سورة المطففين، (10/ 220 - 221)، ط: مكتبة الرشيدية - الباكستان)
تحفة الأبرار میں ہے:
"سالم عن أبيه: أنه عليه السلام: قال: "من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه، خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين ".وقيل: معناه: يطوق حملها يوم القيامة، من (طوقه): إذا كلفه."
(كتاب البيوع، باب الغصب والعارية، ٢/ ٢٧٣، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية بالكويت)
الإفصاح عن معاني الصحاح میں ہے:
"قال: (هذا حجر رمي به في النار منذ سبعين خريفا، فهو يهوي في النار الآن، حين انتهى إلى قعرها). زاد في رواية: (فسمعتم وجبتها)، في هذا الحديث من الفقه: أن الله عز وجل أسمع رسوله صلى الله عليه وسلم، ومن حضر معه من أصحابه وجبة: وقوع هذا الحجر في النار، ليجري على لسان رسوله صلى الله عليه وسلم ذكر مقدار عمق جهنم، وأنها مسيرة سبعين سنة للحجر الذي يهوي به في هذا الهبوط على سرعة تشابه سرعة النجم، والله تعالى يرحمنا بإعاذتنا من هذه النار."
( مسند أبي هریرة رضي الله عنه، ٨/ ١٤١، ط: دار الوطن)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144606102517
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن