
1۔میری شادی 2024 نومبر میں ہوئی، اس میں مجھے پانچ تولہ سونا زیور کی شکل میں ملا اور دو تولہ زیور سونا والدین کی طرف سے اور 75 ہزار روپے ملے، اب سال ختم ہوتے وقت میرے پاس نقد رقم میں سے کچھ بھی نہیں ہے، سوائے اس رقم کے جو میرے شوہر مجھے خرچ کے لیے دیتے ہیں، مثلاً: 500 روپے یا ضرورت کے حساب سے کبھی اس سے زیادہ بھی، جسے میں ضروریات پر خرچ کرلیتی ہوں، سونے کے اعتبار سے میرا نصاب پورا نہیں ہے اور دوسری بھی کوئی جنس(چاندی،نقدی) بھی جمع نہیں ہے، ایسی صورت میں مجھ پر زکوۃ واجب ہے کہ نہیں؟
مولانا یوسف لدھیانوی شہید رحمۃ اللہ علیہ نے ”آپ کے مسائل اور ان کے حل“ میں لکھا ہے کہ اگر سونے کا نصاب پورا نہ ہو اور اس کے ساتھ چاندی، نقدی کچھ بھی نہ ہو تو زکوۃ واجب نہیں ہے، میرے پاس نقدی جمع نہیں ہے، سوائے اس نقدی کے جو مجھے خرچ کے لیے ملتی ہے اور خرچ ہو جاتی ہے۔
2۔اور یہ بھی بتادیں! کہ اگر کسی سال میرے پاس اس سونے کے ساتھ کوئی چاندی یا نقدی آ جاتی ہے تو کیا اس چاندی یا نقدی پر سال گزرنا ضروری ہوگا یا صرف سونے کے سال کا گزرنے کا اعتبار کیا جائے گا؟
وضاحت:یہ پیسے جیب خرچی کے طور پر ہوتے ہیں، بچوں کو اِس میں سے دے دیئے یا میکے میں جاتے وقت کرایہ میں صرف ہوگئے یا بسا اوقات باہر سے کوئی میٹھا یا کٹھا منگوالیا وغیرہ جیسے چیزوں میں صرف ہوتے ہیں یا بسا اوقات خرچ بھی نہیں ہوتے۔
1۔واضح رہے کہ جیب خرچی کی مد حوائج اصلیہ میں شمار نہیں بلکہ سہولت میں شمار ہوتی ہے، جب ہی یہ نان نفقہ کا بنیادی اور لازمی جزء نہیں ہے؛ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے پاس زکوٰۃ کے سال مکمل ہونے کے دن تک اگر اس سات تولہ سونے کے ساتھ وہی جیب خرچی کے طور پر دی گئی رقم موجود ہو تو یہی رقم سات تولہ سونے کے ساتھ مل کر اس کی زکوٰۃ ادا کرنی لازم ہوگی اور اگر یہ رقم ضرورت میں خرچ ہوگئی تب اس کی زکوٰۃ ادا کرنی لازم نہیں ہوگی۔
2۔اگر سائلہ کے پاس مذکورہ سونے کی ساتھ کوئی چاندی یا بنیادی ضرورت سے زائد نقدی یا مال تجارت آجاتا ہے اور ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر بن جاتی ہے تو ایک مرتبہ نصاب کے بقدر مال کا مالک بننے کے بعد سے سال شروع ہوجائے گا اورپھر سال کے آخر میں دیکھا جائے گا کہ مذکورہ سونے کے ساتھ چاندی یا بنیادی ضرورت سے زائد نقدی یا مال تجارت موجود ہے یا نہیں اگر موجود ہے اور ان کا مجموعہ نصاب کے برابر یا زیادہ بن رہا ہے تو زکوٰۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، اور اگر مذکورہ چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہیں ہے تو زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ نیز درمیانِ سال میں آنے والی ہر ہر رقم پر علیحدہ علیحدہ سال کا گزرنا ضروری نہیں ہوگا اور نہ ہی نصاب کی کمی بیشی سے فرق پڑےگا بشرطیکہ کسی وقت مال بالکل ختم نہ ہوجائے۔
المبسوط”للسرخسی“ میں ہے:
"(قال) وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده ومال السائمة والتجارة فيه سواء عندنا."
(کتاب الزکاۃ، زکاۃ الإبل، ج:2، ص:172، ط:دار المعرفة)
وفیہ ایضاً:
"(قال) وإذا كان عند الرجل من السائمة مقدار ما يجب فيه الزكاة فاستفاد من ذلك الجنس في خلال الحول بشراء أو هبة أو ميراث ضمها إلى ما عنده وزكاها كلها عند تمام الحول عندنا."
(کتاب الزکاۃ، زکاۃ الإبل، ج:2، ص:164، ط:دار المعرفة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"فأما إذا كان له الصنفان جميعاً فإن لم يكن كل واحد منهما نصاباً بأن كان له عشرة مثاقيل ومائة درهم، فإنه يضم أحدهما إلى الآخر في حق تكميل النصاب عندنا."
(کتاب الزکاۃ، فصل الأثمان المطلقة وھي الذھب والفضة، ج:2، ص:19، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه ... فارغ (عن حاجته الأصلية) لأن المشغول بها كالمعدوم. وفسره ابن ملك بما يدفع عنه الهلاك تحقيقاً كثيابه أو تقديراً كدينه (نام ولو تقديراً) بالقدرة على الاستنماء ولو بنائبه.
(قوله: ملك نصاب) فلا زكاة في سوائم الوقف والخيل المسبلة لعدم الملك، ولا فيما أحرزه العدو بدارهم لأنهم ملكوه بالإحراز عندنا خلافاً للشافعي بدائع، ولا فيما دون النصاب. ... (قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية) أشار إلى أنه معطوف على قوله عن دين (قوله: وفسره ابن ملك) أي فسر المشغول بالحاجة الأصلية والأولى فسرها، وذلك حيث قال: وهي ما يدفع الهلاك عن الإنسان تحقيقاً كالنفقة ودور السكنى وآلات الحرب والثياب المحتاج إليها لدفع الحر أو البرد أو تقديراً كالدين، فإن المديون محتاج إلى قضائه بما في يده من النصاب دفعاً عن نفسه الحبس الذي هو كالهلاك وكآلات الحرفة وأثاث المنزل ودواب الركوب وكتب العلم لأهلها فإن الجهل عندهم كالهلاك، فإذا كان له دراهم مستحقة بصرفها إلى تلك الحوائج صارت كالمعدومة، كما أن الماء المستحق بصرفه إلى العطش كان كالمعدوم وجاز عنده التيمم. اهـ. وظاهر قوله فإذا كان له دراهم إلخ أن المراد من قوله: وفارغ عن حاجته الأصلية ما كان نصاباً من النقدين أو أحدهما فارغاً عن الصرف إلى تلك الحوائج، لكن كلام الهداية مشعر بأن المراد به نفس الحوائج، فإنه قال: وليس في دور السكنى وثياب البدن وأثاث المنازل ودواب الركوب وعبيد الخدمة وسلاح الاستعمال زكاة؛ لأنها مشغولة بحاجته الأصلية وليست بنامية. اهـ. وبه يشعر كلام المصنف الآتي أيضاً. وأشار كلام الهداية إلى أنه لايضر كونها غير نامية أيضاً؛ إذ لا مانع من خروجها مرتين كما خرج الدين ثانياً بقوله: فارغ عن حوائجه الأصلية، وخصه بالذكر كما قال القهستاني: لما فيه من التفصيل.
(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:259، ط:سعید)
آپ کے مسائل اور ان کا حل میں ہے:
”ایک ہزار روپے ماہانہ جیب خرچ والے پر زکوۃ
سوال : میرے والد صاحب مجھے ماہوار 1000روپے مکان کے کھاتے میں سے دیتے ہیں، جب میں نے دُکان جانا شروع کیا تو انہوں نے یہ رقم مقرر کر دی ، جیب خرچ کہہ لیں یا کام کی اجرت کیا مجھ پر زکوۃ واجب ہے؟
جواب : اگر آپ صاحب نصاب ہیں تو زکوۃ واجب ہے، ورنہ نہیں۔
(زکوٰۃ کے مسائل، زکوٰۃ کا نصاب اور شرائط، ج:5، ص:86، ط:مکتبۃ لدھیانوی)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100738
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن