بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سال پورا ہونے سے پہلے زکات ادا کرنے کی صورت میں ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا وجوبِ زکات کے دن کی قیمت کا؟


سوال

اگر کسی شخص کے پاس سونا ہے اور وہ آئندہ سال کی زکات ادا کرنا چاہتا ہو تو سونے کی کون سی قیمت کا اعتبار ہوگا؟ آج یعنی ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوگا یا پھر سال کے پورا ہونے کے وقت جو قیمت ہوگی اس کا اعتبار ہوگا؟

جواب

واضح رہے کہ قیمت کے اعتبار سے زکات کی ادائیگی کی صورت میں ادائیگی کے دن کی قیمت کا اعتبار ہوتا ہے، اس لیے اگر کسی شخص کے پاس نصاب کے بقدر سونا ہو اور وہ نصاب پر سال مکمل ہونے سے پہلے زکات ادا کرنا چاہتا ہو تو وہ اس وقت سونے کی موجودہ قیمت کے اعتبار سے آئندہ واجب الاداء زکات کی ادائیگی کی نیت سے ادا کردے تو اس وقت اس کے پاس سونے کی موجودہ  مقدار کی زکات ادا ہوجائے گی،پھر سال پورا ہونے کے وقت اگر سونے کی قیمت بڑھ گئی تو قیمت بڑھنے کی وجہ سے اتنی مقدار سونے کی اضافی زکات ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی،  البتہ نصاب پر سال مکمل ہونے کے وقت اگر سونے کی مقدار بڑھ چکی ہو تو اس اضافی مقدار (جس کی زکات سِرے سے ادا ہی نہیں کی گئی ہے) کی زکات اس وقت کی قیمت کے اعتبار سے ادا کرنا لازم ہے۔

فتاویٰ شامی میں ہے: 

"(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح، ويقوم في البلد الذي المال فيه ولو في مفازة ففي أقرب الأمصار إليه فتح."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص: 285، ط: سعید)

وفیہ ایضاً: 

"(ولو عجل ذو نصاب) زكاته (لسنين أو لنصب صح) لوجود السبب، وكذا لو عجل عشر زرعه أو ثمره بعد الخروج قبل الإدراك.

(قوله: لوجوب السبب) أي سبب الوجوب وهو ملك النصاب النامي فيجوز التعجيل لسنة وأكثر كما إذا كفر بعد الجرح وكذا النصب؛ لأن النصاب الأول هو الأصل في السببية والزائد عليه تابع له.

قال في البحر: ولا يخفى أن الأفضل عدم التعجيل للاختلاف فيه عند العلماء ولم أره منقولا (قوله: وكذا لو عجل) التشبيه راجع إلى المسألة الأولى وهي التعجيل لسنة أو سنين؛ لأنه إذا ملك نصابا وأخرج زكاته قبل أن يحول الحول كان ذلك تعجيلا بعد وجود السبب لكونه أداء قبل وقت وجوبه وهنا كذلك؛ لأن وقت أداء العشر وقت الإدراك، فإذا أدى قبله يكون تعجيلا عن وقت الأداء بعد وجود السبب وهو الأرض النامية بالخارج حقيقة."

(کتاب الزکاۃ، ج:2، ص: 293، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100386

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں