
نکاح دو تولہ سونے کے عوض منعقد ہوا، پھر رخصتی سے پہلے طلاق ہوگئی، اس پر گاؤں کے امام صاحب نے یہ فیصلہ کیا کہ نکاح کے موقع پر لڑکے والوں نے جو خرچہ کیا تھا اس کا نصف خرچہ لڑکی والے برداشت کریں گے۔
پوچھنا یہ ہے کہ:
1۔کہ رخصتی سے پہلے طلاق واقع ہونے کی صورت میں مہر کی ادائیگی لڑکے والوں کے ذمہ لازم رہتی ہے یا نہیں؟
2۔کیا ایسی صورت میں نکاح میں ہونے والے خرچے کو لڑکی کے والد پر لازم کرنا درست ہے یا نہیں؟
وضاحت: مذکورہ نکاح ہوئے پانچ چھ سال ہوئے تھے، خاندانی اختلافات کی وجہ سے رخصتی نہیں ہو پارہی تھی، امام صاحب نے دونوں فریق کو مسجد میں طلب کیا، دونوں فریق نے امام صاحب سے کہا کہ ہم نہیں چل سکتے تو امام صاحب کے کہنے پر لڑکے نے لڑکی کو طلاق دے دی، طلاق واقع ہونے کے بعد لڑکی کے والد نے امام صاحب سے مہر کے متعلق پوچھا۔امام صاحب نے کہا مہر نہیں ملے گا، بلکہ جو کچھ لڑکے والوں نے نکاح میں خرچ کیا ہے اس کا نصف بھی لڑکی کا والد بھرے گا، لڑکی کے والد نے اسی وقت کہا یہ بات میری سمجھ نہیں آرہی، میں نہیں دوں گا۔
1-صورتِ مسئولہ میں اگرنکاح کےبعد رخصتی یا خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق ہوجائے تو لڑکے کے ذمہ نصف مہر لازم ہوگا۔
2-مذکورہ صورت میں امام صاحب کا یہ کہنا کہ ”جو کچھ لڑکے والوں نے نکاح میں خرچ کیا ہے اس کا نصف لڑکی کا والد بھرے گا“ درست نہیں، لہذا لڑکی کے والد کے ذمہ شرعاً یہ خرچہ لازم نہیں۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)
(قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه، والمتبادر التسمية وقت العقد، فخرج ما فرض أو زيد بعد العقد فإنه لا ينصف كالمتعة كما سيأتي."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:104، ط؛سعید)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"حد الخلوة الصحيحة أن لا يكون هناك مانع يمنعه من وطئها طبعا ولا شرعا، حتى إذا كان أحدهما مريضا مرضا يمنع الجماع أو صائما في رمضان أو محرما أو كانت هي حائضا لا تصح الخلوة لقيام المانع طبعا أو شرعا."
(کتاب النکاح، باب الإحصان، 150/5، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"تفسيره تصيير غيره حاكما فيكون الحكم فيما بين الخصمين كالقاضي في حق كافة الناس وفي حق غيرهما بمنزلة المصلح، كذا في محيط السرخسي."
(كتاب أدب القاضي، الباب الرابع والعشرون في التحكيم، 397/3، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
"قضاء القاضي الأول لا يخلو إما أن وقع في فصل فيه نص مفسر من الكتاب والسنة المتواترة أو إجماع وإما أن وقع في فصل مجتهد فيه من ظواهر النصوص والقياس فإن وقع في فصل فيه نص مفسر من الكتاب والخبر المتواتر أو إجماع فإن وافق قضاؤه ذلك نفذه الثاني ولا يحل له النقض وإن خالف شيئا من ذلك رده".
(كتاب أدب القاضي، الباب التاسع عشر في القضاء في المجتهدات، ج:3، ص:356، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100700
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن