
ایک شخص نے اپنے والدین کی اجازت کے بغیر شادی کر لی۔ بعد میں جب والدین کو علم ہوا تو وہ اس رشتے پر راضی نہیں ہوئے اور اپنے بیٹے سے طلاق کا مطالبہ کرنے لگے۔
اس صورت میں اگر طلاق دی جاتی ہے تو مہر کی ادائیگی کی کیا صورت ہوگی، جب کہ شوہر یہ اعتراف کرتا ہے کہ اُس نے اپنی منکوحہ سے تنہائی میں ملاقات کی ہے، لیکن ہم بستری نہیں کی۔منکوحہ حالتِ حیض میں تھی۔
تو کیا ایسی صورت میں مکمل مہر ادا کیا جائے گا یا آدھا؟اور کیا مہر کی ادائیگی ایک ساتھ کرنا ضروری ہے یا قسطوں میں بھی کی جا سکتی ہے؟
صورتِ مسئولہ میں والدین کی اجازت کے بغیر نکاح کرنا غیر اخلاقی اور غیر مہذب عمل تھا، معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے مناسب نہیں تھا؛ ایسا کرنا قابلِ ملامت ہے، تاہم کیا گیا نکاح شرعاً منعقد ہے، لہذا اب اگر اس نکاح کو ختم کرنے کی کوئی معقول شرعی وجہ موجود نہیں ہے، تو والدین کو بیٹے سے طلاق نہیں دلوانا چاہیے۔
اس سب کے باوجود اگر مذکورہ شخص کو والدین کے کہنے پر بیوی کو طلاق دینا پڑے، تو اگر طلاق سے پہلے خلوتِ صحیحہ (یعنی ایسی تنہائی جس میں ہمبستری سے نہ کوئی شرعی مانع ہو جیسے حیض وغیرہ، اور نہ کوئی حسی مانع ہو جیسے مرض وغیرہ) واقع نہ ہوئی، تو ایسی صورت میں طلاق دینے پر نصف مہر (آدھا مہر) لازم ہوگا۔اور چوں کہ جو خلوت ہوچکی ہے اُس میں عورت حالتِ حیض میں تھی، اس لیے اس خلوت کی وجہ سے مکمل مہر کی ادائیگی لازم نہیں ہوئی۔
مہر کی ادائیگی اگر معجل (فوری) تھی، تو فوری طور پر مہر ادا کرنا لازم ہے، الا یہ کہ عورت خود کچھ مدت کی مہلت دے دے یا قسطوں میں ادائیگی پر راضی ہو جائے۔
اور اگر مہر کی ادائیگی مؤجل ( تاخیر شدہ )تھی، تو جتنی مدت کے لیے مہر مؤخر کیا گیا ہو، اس مدت تک ادائیگی مؤخر کی جا سکتی ہے، اور اس مدت کے دوران مہر تھوڑا تھوڑا کر کے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔
اور اگر مؤجل میں مہر کی کوئی مدت طے نہیں کی گئی تھی، تو ایسی صورت میں طلاق کی وجہ سے فرقت کے وقت لازم ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) يجب (نصفه بطلاق قبل وطء أو خلوة)
(قوله ويجب نصفه) أي نصف المهر المذكور، وهو العشرة إن سماها أو دونها أو الأكثر منها إن سماه، والمتبادر التسمية وقت العقد، فخرج ما فرض أو زيد بعد العقد فإنه لا ينصف كالمتعة كما سيأتي."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:104، ط؛سعید)
وفیه أیضاً:
"(وتجب العدة في الكل) أي كل أنواع الخلوة ولو فاسدا(احتياطا)
(قوله وتجب العدة) ظاهره الوجوب قضاء وديانة."
(کتاب النکاح، باب المھر، ج:3، ص:104، ط؛سعید)
مبسوط سرخسی میں ہے:
"حد الخلوة الصحيحة أن لا يكون هناك مانع يمنعه من وطئها طبعا ولا شرعا، حتى إذا كان أحدهما مريضا مرضا يمنع الجماع أو صائما في رمضان أو محرما أو كانت هي حائضا لا تصح الخلوة لقيام المانع طبعا أو شرعا."
(کتاب النکاح، باب الإحصان، 150/5، ط:دار المعرفة)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"والمهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق".
(کتاب النکاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر والمتعة، ج:1، ص:303، ط:دار الفکر)
وفیه أیضاً:
""وإن بينوا قدر المعجل يعجل ذلك...ولو قال: نصفه معجل ونصفه مؤجل كما جرت العادة في ديارنا ولم يذكر الوقت للمؤجل اختلف المشايخ فيه قال بعضهم: لايجوز الأجل ويجب حالاً، وقال بعضهم: يجوز ويقع ذلك على وقت وقوع الفرقة بالموت أو بالطلاق، وروى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - ما يؤيد هذا القول، كذا في البدائع. ."
(کتاب النکاح، باب سابع، الفصل الحادی عشر، ج:1، ص:318، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101870
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن