
ایک لڑکی کا نکاح ہوا ہے اور اب تک کوئی رخصتی نہیں ہوئی ہے، اب اگر وہ طلاق لے کردوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو پوچھنا یہ ہے کہ شادی سے پہلے عدت لازم ہوگی یا نہیں؟
صورت ِ مسئولہ میں اگر رخصتی (صحبت/خلوتِ صحیحہ ) سے قبل طلاق ہوجائے، تو شرعاً لڑکی پر عدت لازم نہیں ہوگی اور اگر نکاح کے بعد رخصتی سے قبل خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو، تب طلاق کی صورت میں لڑکی پر عدت لازم ہوگی۔
قرآن کریم میں ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ {الأحزاب:49}
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. رجل تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق، ج:1، ص:526، ط:دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100326
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن