بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 ذو الحجة 1447ھ 05 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رخصتی سے پہلے طلاق کی صورت میں عدت کا حکم


سوال

ایک لڑکی کا نکاح ہوا ہے اور اب تک کوئی رخصتی نہیں ہوئی ہے، اب اگر وہ طلاق لے کردوسری جگہ شادی کرنا چاہے تو پوچھنا یہ ہے کہ شادی سے پہلے عدت لازم ہوگی یا نہیں؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں اگر رخصتی (صحبت/خلوتِ صحیحہ ) سے قبل طلاق ہوجائے، تو شرعاً لڑکی پر عدت لازم نہیں ہوگی اور اگر نکاح کے بعد رخصتی سے قبل خلوتِ صحیحہ ہوچکی ہو، تب طلاق کی صورت میں لڑکی پر عدت لازم  ہوگی۔

قرآن کریم میں ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ {الأحزاب:49}

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"هي انتظار مدة معلومة يلزم المرأة بعد زوال النكاح حقيقة أو شبهة المتأكد بالدخول أو الموت كذا في شرح النقاية للبرجندي. ‌رجل ‌تزوج امرأة نكاحا جائزا فطلقها بعد الدخول أو بعد الخلوة الصحيحة كان عليها العدة كذا في فتاوى قاضي خان."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:526، ط:دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100326

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں