
داڑھی ۔یعنی چہرےکےدائیں بائیں کان سےسٹارٹ ہوکرنیچےجبڑےکےرخساروں پرجوداڑھی مطلب رخسارتھوڑاباہرنکلےہوئےہوں، اورٹھوڑی سےتھوڑااوپردائیں بائیں چہرہ تھوڑااندرکی طرف ہو،یعنی اوپرتھوڑابڑانیچے تھوڑاچھوٹا، تو داڑھی کی خوبصورتی کیلئے یہ اوپرسےجوداڑھی کےبال تتربترہوں، اوپروالےبالوں کو خوبصورت بنا کے تھوڑا کاٹ سکتےہیں،تاکہ نیچےبال اوراوپروالےبال ایک ہی لیول میں رہیں،اوریوں ایک مشت یعنی ایک مٹھی داڑھی رکھے۔
داڑھی کی شرعی حدود کانوں کے پاس جہاں سے جبڑے کی ہڈی شروع ہوتی ہے یہاں سے داڑھی کی ابتدا ہے اور پورا جبڑا داڑھی کی حد ہے اور جو بال رخسار اور جبڑوں کے نیچے گلے پر ہوں ان پر شرعاً داڑھی کا اطلاق نہیں ہوتا، اور بالوں کی لمبائی کے لحاظ سے داڑھی کی مقدار ایک مشت ہے،اس سے زائد بال ہوں تو ایک مشت کی حد تک چھوڑ کر زائد کو کاٹ سکتےہیں، مذکورہ حدود کے اندر ہونے والے داڑھی کے بالوں کے علاوہ رخسار (گال)پر جو بال موجود ہیں وہ چوں کہ شرعاً داڑھی کی حدود میں نہیں آتے، اس لیے ان کو صاف کر سکتے ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں اوپر والے بالوں سے اگر داڑھی کے علاوہ رخسار پر جو بال ہوتے ہیں وہ بال کاٹنا مراد ہیں تو جائز ہے ،اور اگر داڑھی کے بال مراد ہیں تو داڑھی کے بال کاٹنا ناجائز ہے۔
صحیح مسلم میں ہے:
"عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خالفوا المشركين أحفوا الشوارب، وأوفوا اللحى".
(كتاب الطهارة، باب خصال الفطرة، ج:1، ص:222، ط:دار إحياء التراث العربي)
ترجمہ:”حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہےوہ فرماتے ہیں: کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ۔“
البحر الرائق میں ہے:
" وفي شرح الإرشاد اللحية الشعر النابت بمجتمع اللحيين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض."
(کتاب الطهارة، سنن الوضوء: ج1، ص:16، ط: دار الکتاب الإسلامي)
فتاوٰی شامی میں ہے:
"وأما الأخذ منها وهي دون ذلك كما يفعله بعض المغاربة، ومخنثة الرجال فلم يبحه أحد، وأخذ كلها فعل يهود الهند ومجوس الأعاجم."
(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج: 2، ص: 418، ط: سعید)
وفیه أیضاً:
"(قوله: جميع اللحية) بكسر اللام وفتحها، نهر، وظاهر كلامهم أن المراد بها الشعر النابت على الخدين من عذار وعارض والذقن.
وفي شرح الإرشاد: اللحية الشعر النابت بمجتمع الخدين والعارض ما بينهما وبين العذار وهو القدر المحاذي للأذن، يتصل من الأعلى بالصدغ ومن الأسفل بالعارض، بحر".
(کتاب الطهارة: ج:1، ص:100، ط: سعید)
الموسوعۃ الفقہیۃ میں ہے:
"اللحية لغة : الشعر النابت على الخدين والذقن ، والجمع اللحى واللحى . ورجل ألحى ولحياني : طويل اللحية ، واللحي واحد اللحيين وهما : العظمات اللذان فيهما الأسنان من الإنسان والحيوان ، وعليهما تنبت اللحية . واللحية في الاصطلاح ، قال ابن عابدين : المراد باللحية كما هو ظاهر كلامهم الشعر النابت على الخدين من عذار ، وعارض ، والذقن".
(اللحیة: ج:35، ص: 222، ط: دار السلاسل)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100045
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن