بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رجوع کا طریقہ/طلاق کا اختیار بیوی کو دینا


سوال

ایک طلاق دینے کے بعد رجوع کا طریقہ کیا ہوگا؟

کیاشوہر باقی 2 طلاقوں  کا حق اپنے والد یا بیوی کو دے سکتا ہے یا نہیں؟ اگر دے سکتا ہے تو اس کا طریقہ کیا ہوگا۔

جواب

1۔واضح رہے کہ اگر بیوی کو ایک طلاق رجعی دی ہے اور رجوع کرنا چاہتا  ہے، تو عدت یعنی تین ماہوایاں گزرنے سے پہلے بغیر نکاح کے رجوع کیا جاسکتا ہے اور رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ مرد زبان سے کہہ دے کہ میں نےاپنی بیوی سے رجوع کر لیا، یہ قولی اور زبانی طور پر رجوع ہوجائے گا اور اگر زبان سے کچھ نہ کہے، بلکہ بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرلے، یا خواہش و رغبت سے اسے چھوئے یا بوسہ لے لے، تو اس سے بھی رجوع ہوجائے گا، یہ عملاً رجوع کہلاتا ہے، دونوں  طریقوں سے رجوع درست ہے، البتہ قولی رجوع کرنا اور اس پر گواہان قائم کرنا مستحب ہے اور اگر عدت مکمل ہوگئی ہو، تو باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے اور اگر طلاق بائن دی ہو، تب بھی باہمی رضامندی سے نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کرنا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا طلق الرجل امرأته ‌تطليقة ‌رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:470، ط:دار الفكر)

2۔شوہر اپنی رضامندی سے اپنی بیوی کو یا بیوی کے علاوہ والد یا دوسرے شخص کو طلاق دینے کا ختیار  دے سکتا ہے، اختیار دینے کی صورت میں بیوی خود اپنے آپ کو یا صاحبِ اختیار شخص اس کی بیوی کو طلاق دیدے، تو بیوی پر طلاق واقع ہوجائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو قال لها: أنت طالق ‌إذا ‌شئت أو إذا ما شئت أو متى شئت أو ‌متى ‌ما ‌شئت فلها أن تطلق نفسها في أي وقت ‌شاءت ‌في ‌المجلس أو بعده وبعد القيام عنه لما مر."

(كتاب الطلاق، ج:3، ص:121، ط:دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144611100780

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں