بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 صفر 1443ھ 17 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں قطروں کا آنا


سوال

اگر روزہ میں قطرے آئیں تو کیا روزہ ٹوٹتا ہے؟

جواب

اگر قطروں سے مراد پیشاب کے قطرے ہیں تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس سے روزہ مکروہ نہیں ہوتا۔ اور اگر قطروں سے مراد شہوت کی وجہ سے مذی کے قطرے ہیں تو  اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔ اور اگر احتلام ہوگیا (یعنی سوتے ہوئے منی خارج ہوگئی) یا جاگتے ہوئے اپنے عمل کے بغیر خود سے منی خارج ہوگئی تو اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

اور اگر جاگتے ہوئے اپنے عمل سے انزال ہوگیا (یعنی منی خارج ہوگئی) تو روزہ  فاسد ہوجائے گا اور قضا لازم ہوگی، نیز اس صورت میں استغفار بھی لازم ہوگا، کیوں کہ یہ گناہ کا کام ہے۔

بہرحال قصداً برے خیالات سوچنا گناہ ہے، جس سے روزہ کی کامل برکات نصیب نہیں ہوں گی۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109202991

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں