
میں نے روزے کی حالت میں وضو کیا، جس میں ناک میں پانی ڈالا اور زیادہ اوپر نہیں کھینچا تھا، لیکن پھر ایسا لگا جیسے کہ پانی سر میں گیا ہو، ایسا بہت زیادہ لگ رہا ہے، لیکن پورا یقین نہیں ہورہا، ایسا اس لئے لگا کیونکہ پانی ڈالنے کے بعد سر تھوڑا درد کر رہا ہے، اس لئے ایسا لگا لیکن سر تو اس کے بعد بھی مسلسل درد ہی کر رہا رہے، اب سمجھ نہیں آرہا کہ کیا واقعی روزہ ٹوٹ گیا؟
صورت مسئولہ میں جب سائل نے روزہ کی حالت میں وضو کرتے ہوئے ناک میں پانی ڈالا اور اس میں ایسا مبالغہ نہیں کیا کہ جس کی وجہ سے پانی ناک کے ذریعہ دماغ یا حلق تک پہنچا ہوتو اس سے روزہ فاسد نہیں ہوا، اگر مکمل یقین نہ ہوتو پانی کے دماغ تک پہنچنے کے محض خیال اور وسوسہ آنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا۔
فتاوى هندیہ میں ہے:
'' وإن تمضمض أو استنشق فدخل الماء جوفه إن كان ذاكراً لصومه فسد صومه، وعليه القضاء، وإن لم يكن ذاكراً لا يفسد صومه، كذا في الخلاصة، وعليه الاعتماد.''
(کتاب الصوم،ج1،ص202،ط؛دار الفکر)
بدائع الصنائع میں ہے:
"أن الماء لا يسبق الحلق في المضمضة، والاستنشاق عادة إلا عند المبالغة فيهما، والمبالغة مكروهة في حق الصائم."
(كتاب الصوم، فصل أركان الصيام، ج:2، ص:91، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101058
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن