بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 شوال 1445ھ 23 اپریل 2024 ء

دارالافتاء

 

روزوں کا فدیہ والدین کو دینا


سوال

کیا رمضان کا روزوں کا  فدیہ غریب والدین کو دیا جا سکتا ہے اگر وہ کسی اور شہر میں رہتے ہوں اور اس کے علاوہ بھی والدین کی مدد کرتا رہا ہو ۔اور خود بھی ایک متوسط خاندان کا ہو ،  ایک نوکری پیشہ بندہ ہو اور نوکری تنخوا ہ علاوہ کوئی دوسرا  ذریعہ آمدن کا نہ ہو  اور خود شوگر کا بیمار ہو؟

جواب

واضح رہے کہ روزے کا فدیہ اس صورت میں دیا جاتاہے جب کوئی شخص بہت زیادہ بڑھاپے یا دائمی مرض کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھتاہو، سردی کے ایام میں بھی روزہ نہ رکھ سکتا ہو، اور مریض ہونے کی صورت میں ماہر دین دار ڈاکٹر کی رائے یہ ہو کہ دوبارہ صحت یاب نہیں ہوگا، تو ایسا مریض یا بوڑھا شخص ایک روزے کے بدلے ایک صدقہ فطر (اس سال 2021ء - 1442ھ میں کراچی اور اس کے مضافات کے لیے 140روپے)  کی مقدار کسی فقیر کو دے گا، اسے فدیہ کہا جاتاہے۔ اگر فدیہ ادا کرنے کے بعد مریض کو روزے رکھنے پر قدرت حاصل ہوگئی تو جتنے روزے چھوٹے ہوں ان کی قضا کرنا ہوگی، فدیہ میں دی گئی رقم نفلی صدقہ ہوجائے گی۔

اور  فدیہ ان ہی لوگوں کو دینا جائز ہے جن کو  زکات دینا جائز ہے،والدین کو  زکات دینا جائز نہیں ہے، اس لیے والدین کو  فدیہ دینا بھی جائز نہیں ہے، اس سے فدیہ ادا نہیں ہوگا۔ فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144109200327

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں