
میں دوبئی میں 10 سال سےگورنمنٹ ملازمت کرتا ہوں، میرے چار بچے 2 بیٹیاں اور 2 بیٹےہیں،میرا ایک بھائی کنوارہ ہے۔میں 2 سال سے گھر والوں کو بول رہا ہوں کہ اس بھائی کی شادی کروادیں، جواب میں وہ کہتے ہیں وہ ابھی ڈپلومہ کر رہا ہے، ڈیڑھ سال باقی ہے، اس کے بعد شادی کروائیں گے، وہ میری چھ سالہ بیٹی کی عزت پہ حملہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، دو بار میری بیوی نے بچایا ہے۔اب مجھے کیا کرنا چاہیے؟ پاکستان میں رہ کر کام نہیں کر سکتا، کیوں کہ جو کام میں دبئی میں کرتا ہوں وہ کام پاکستان میں نہیں ہے، اب جنوری کی 25 تاریخ کو میں پاکستان چھٹی پر جا رہا ہوں، مجھے کیا کرنا چاہیے؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں !
بصورتِ مسئولہ سائل کو چاہیے اولاً اپنے بیوی بچوں کی اپنے ہمراہ رہائش کاانتظام کرے ، یا تو گھروالوں کو بھی اپنے ساتھ دوبئی منتقل کرکے لے جائے، یا پھر یہیں پاکستان میں اپنا ذریعۂ معاش ڈھونڈ کر گھروالوں کے ساتھ رہے۔اور اگر فی الوقت اس پر عمل کرنا مشکل ہوتو کم از کم اپنی فیملی یعنی بیوی بچوں کی رہائش کا الگ تھلگ انتظام کر کے جائے، جہاں سائل کی غیرموجودگی میں بھائی کی آمدو رفت نہ ہو۔کیوں کہ شریعتِ مطہرہ نے شوہر کو اپنی بیوی کے نان و نفقہ کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ علیحدہ رہائش فراہم کرنے کا پابند کیا ہےجس میں شوہر کے گھر والوں کی بے جامداخلت نہ ہو۔
باقی سائل کا بھائی اگر واقعی اِس قسم کی نازیبا حرکات میں ملوث ہو تو اُس پر نکاح کرنا لازم ہے، ڈپلومہ یا دیگر وجوہات کی وجہ سے شادی میں تاخیر کرنا درست نہیں ہے، سائل کو چاہیے کہ اِس معاملہ میں بھائی اور دیگر گھر والوں کو اعتماد میں لے کر معاملہ حل کرے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"قلت: والحاصل أن المشهور وهو المتبادر من إطلاق المتون أنه يكفيها بيت له غلق من دار سواء كان في الدار ضرتها أو أحماؤها. وعلى ما فهمه في البحر من عبارة الخانية وارتضاه المصنف في شرحه لا يكفي ذلك إذا كان في الدار أحد من أحمائها يؤذيها، وكذا الضرة بالأولى."
(باب النفقة، مطلب في مسکن الزوجة، ج:3، ص:601، ط: سعید)
وفيه أيضاً:
"(ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية. وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع.
وفي الرد: (قوله: عند التوقان) ... والمراد شدة الاشتياق كما في الزيلعي: أي بحيث يخاف الوقوع في الزنا لو لم يتزوج إذ لا يلزم من الاشتياق إلى الجماع الخوف المذكور بحر.
قلت: وكذا فيما يظهر لو كان لا يمكنه منع نفسه عن النظر المحرم أو عن الاستمناء بالكف، فيجب التزوج، وإن لم يخف الوقوع في الزنا (قوله: فإن تيقن الزنا إلا به فرض) أي بأن كان لا يمكنه الاحتراز عن الزنا إلا به؛ لأن ما لا يتوصل إلى ترك الحرام إلا به يكون فرضا."
(كتاب النكاح، ج:3، ص:6، ط:سعيد)
فقط والله تعالى اعلم
فتویٰ نمبر : 144606102395
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن