بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

روزے میں میاں بیوی کا بوس و کنار کرنا


سوال

اگر بیوی کے ساتھ بوس و کنار کرتے وقت ودی یا مذی نکل جاۓ تو روزے کی قضا ہے یا نہیں؟

جواب

جس شخص کو اپنے اوپر اعتماد نہ ہو، اس کے لیے      روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنا مکروہ ہے، تاہم جب تک انزال نہ ہو تو مذی یا ودی نکلنے کی وجہ  سے روزہ  فاسد نہیں ہوتا اور نہ ہی  قضا  لازم ہوتی  ہے، البتہ مذی یا ودی کپڑے یا جسم پر جہاں لگ جائے وہ ناپاک ہوجائے گا، نماز سے پہلے اسے پاک کرنا ہوگا۔ 

اور اگر بوس و کنار کے دوران  میاں بیوی  میں سے کسی نے  دوسرے کا تھوک نگل لیا تو  روزہ فاسد ہوجائے گا، قضا اور   کفارہ  دونوں  لازم ہوں گے؛  یعنی اس صورت میں ایک روزے کی جگہ ایک روزہ بطورِ  قضا  اور    مسلسل  ساٹھ (60)  روزے   بطورِ  کفارہ رکھنے ہوں گے، درمیان میں ایک دن بھی وقفہ کرلیا تو از سرِ نو دو مہینے کے روزے رکھنے  ضروری ہوں گے۔

اگر کسی شرعی عذر  کی وجہ سے واقعتًا  مسلسل  ساٹھ  روزے  رکھنا  ممکن نہ ہو تو  ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا یا ساٹھ مسکینوں میں سے ہر ایک کو صدقہ فطر کی مقدار ادا کرنا ضروری ہوگا۔

تنوير الأبصار مع الدر المختار   میں ہے:

"(وَ) كُرِهَ (قُبْلَةٌ) وَمَسٌّ وَمُعَانَقَةٌ وَمُبَاشَرَةٌ فَاحِشَةٌ (إنْ لَمْ يَأْمَنْ) الْمُفْسِدَ وَإِنْ أَمِنَ لَا بَأْسَ".

فتاوی شامی میں ہے:

"(قَوْلُهُ: وَكُرِهَ قُبْلَةٌ إلَخْ) جَزَمَ فِي السِّرَاجِ بِأَنَّ الْقُبْلَةُ الْفَاحِشَةَ بِأَنْ يَمْضُغَ شَفَتَيْهَا تُكْرَهُ عَلَى الْإِطْلَاقِ أَيْ سَوَاءٌ أَمِنَ أَوْ لَا، قَالَ فِي النَّهْرِ: وَالْمُعَانَقَةُ عَلَى التَّفْصِيلِ فِي الْمَشْهُورِ، وَكَذَا الْمُبَاشَرَةُ الْفَاحِشَةُ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ كَرَاهَتُهَا مُطْلَقًا وَهُوَ رِوَايَةُ الْحَسَنِ، قِيلَ: وَهُوَ الصَّحِيحُ. اهـ. وَاخْتَارَ الْكَرَاهَةَ فِي الْفَتْحِ وَجَزَمَ بِهَا فِي الْوَلْوَالِجيَّةِ بِلَا ذِكْرِ خِلَافٍ وَهِيَ أَنْ يُعَانِقَهَا وَهُمَا مُتَجَرِّدَانِ وَيَمَسَّ فَرْجُهُ فَرْجَهَا، بَلْ قَالَ فِي الذَّخِيرَةِ: إنَّ هَذَا مَكْرُوهٌ بِلَا خِلَافٍ؛ لِأَنَّهُ يُفْضِي إلَى الْجِمَاعِ غَالِبًا. اهـ. وَبِهِ عُلِمَ أَنَّ رِوَايَةَ مُحَمَّدٍ بَيَانٌ لِكَوْنِ مَا فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ مِنْ كَرَاهَةِ الْمُبَاشَرَةِ لَيْسَ عَلَى إطْلَاقِهِ، بَلْ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى غَيْرِ الْفَاحِشَةِ، وَلِذَا قَالَ فِي الْهِدَايَةِ: وَالْمُبَاشَرَةُ مِثْلُ التَّقْبِيلِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ: أَنَّهُ كَرِهَ الْمُبَاشَرَةَ الْفَاحِشَةَ اهـ وَبِهِ ظَهَرَ أَنَّ مَا مَرَّ عَنْ النَّهْرِ مِنْ إجْرَاءِ الْخِلَافِ فِي الْفَاحِشَةِ لَيْسَ مِمَّا يَنْبَغِي، ثُمَّ رَأَيْت فِي التَّتَارْخَانِيَّة عَنْ الْمُحِيطِ: التَّصْرِيحَ بِمَا ذَكَرْته مِنْ التَّوْفِيقِ بَيْنَ الرِّوَايَتَيْنِ وَأَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا وَلِلَّهِ الْحَمْدُ (قَوْلُهُ: إنْ لَمْ يَأْمَنْ الْمُفْسِدَ) أَيْ الْإِنْزَالَ أَوْ الْجِمَاعَ، إمْدَادٌ (قَوْلُهُ: وَإِنْ أَمِنَ لَا بَأْسَ) ظَاهِرُهُ أَنَّ الْأَوْلَى عَدَمُهَا لَكِنْ قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَفِي الصَّحِيحَيْنِ «أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ كَانَ يُقَبِّلُ وَيُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ» وَرَوَى أَبُو دَاوُد بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ «أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ سَأَلَهُ رَجُلٌ عَنْ الْمُبَاشَرَةِ لِلصَّائِمِ فَرَخَّصَ لَهُ وَأَتَاهُ آخَرُ فَنَهَاهُ» فَإِذَا الَّذِي رَخَّصَ لَهُ شَيْخٌ وَاَلَّذِي نَهَاهُ شَابٌّ. اهـ".

( كتاب الصوم، بَابُ مَا يُفْسِدُ الصَّوْمَ وَمَا لَا يُفْسِدُهُ، ٢ / ٤١٧، ط: دار الفكر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وَلَوْ ابْتَلَعَ بُزَاقَ غَيْرِهِ فَسَدَ صَوْمُهُ بِغَيْرِ كَفَّارَةٍ إلَّا إذَا كَانَ بُزَاقَ صَدِيقِهِ فَحِينَئِذٍ تَلْزَمُهُ الْكَفَّارَةُ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ".

(كتاب الصوم، الْبَابُ الرَّابِعُ فِيمَا يُفْسِدُ، وَمَا لَا يُفْسِدُ، ١ / ٢٠٣، ط: دار الفكر)

مزید تفصیل کے  لیے دیکھیے:

روزے کی حالت میں بیوی سے بوس و کنار کرنے کا حکم

فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144209201666

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں