بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں پانی کا حلق سے نیچے جانے کا حکم


سوال

روزے کی حالت میں غسل کرنے کے بعد سر اٹھایا کپڑا لینے کے لیے تو ایسالگاکہ حلق میں ناک کے ذریعے پانی چلا گیاہے،بعد میں دوبارہ ناک میں پانی ڈال کر سر اٹھایا یہ کنفرم کرنے کے لیے کہ پانی ناک میں جا سکتا ہے ،تو اگر دوسری بار پانی ڈالنے سے حلق میں پانی چلا گیا تو روزے کی قضا آئے گی یا کفارہ بھی آئے گا،جبکہ ارادہ روزہ توڑنے کا نہیں تھا صرف کنفرم کرنے کے لیے تھا؟

جواب

اگر غسل کرتے وقت یا سر دھوتے وقت پانی غلطی سے حلق  سے نیچے اتر  جائے  اور  روزہ یاد ہو تو  روزہ فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی ، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن تمضمض أو استنشق فدخل الماء جوفه إن كان ذاكراً لصومه فسد صومه، وعليه القضاء، وإن لم يكن ذاكراً لايفسد صومه، كذا في الخلاصة، وعليه الاعتماد."

 (‌‌کتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد،النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة،ج:1،ص:202،ط:رشیدیة)

‌‌فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101437

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں