بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں ہڈی کا آپریشن کروانا


سوال

روزے کی حالت میں ہڈی کےآپریشن کروانے کا کیا  حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں روزے کی حالت میں ہڈی کا آپریشن کروانا جائز ہے، اس سے روزہ فاسد نہیں ہوگا؛ کیونکہ  روزہ کسی ایسی چیز سے ٹوٹتا ہے جو براہ راست دماغ یا معدہ تک پہنچ جائے، لیکن آپریشن سے پہلے بے ہوشی کے لیے اگر ناک یا منہ کے راستہ سے بے ہوشی کے دوا والی آکسیجن دینے سے روزہ فاسد ہوجائے گا، تاہم اگر انجکشن کے ذریعے بے ہوش کیا جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وفي دواء الجائفة والآمة أكثر المشايخ على أن العبرة للوصول إلى الجوف والدماغ لا لكونه رطبا أو يابسا حتى إذا علم أن اليابس وصل يفسد صومه، ولو علم أن الرطب لم يصل لم يفسد هكذا في العناية، وإذا لم يعلم أحدهما، وكان الدواء رطبا فعند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - يفطر للوصول عادة وقالا لا لعدم العلم به فلا يفطر بالشك، وإن كان يابسا فلا فطر اتفاقا هكذا في فتح القدير."

(كتاب الصوم، باب ما يفسد وما لا يفسد، ج: 1، ص: 224، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو احتقن أو استعط) في أنفه شيئا...وفي الرد: (قوله: أو احتقن أو استعط) كلاهما بالبناء للفاعل من حقن المريض دواءه بالحقنة واحتقن بالضم غير جائز وإنما الصواب حقن أو عولج بالحقنة والسعوط الدواء الذي صب في الأنف وأسعطه إياه ولا يقال: استعط مبنيا للمفعول معراج، وعدم وجوب الكفارة في ذلك هو الأصح؛ لأنها موجب الإفطار صورة ومعنى والصورة الابتلاع كما في الكافي وهي منعدمة والنفع المجرد عنها يوجب القضاء فقط إمداد."

(كتاب الصوم، باب ما يفسده و ما لا يفسده، ج: 2، ص: 402، ط: سعید)

فقط وألله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709101285

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں