بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزےکی حالت میں غیر اختیاری اشیاء کے حلق میں داخل ہونے کا حکم


سوال

اگر روزے کی حالت میں مچھر یا مکھی حلق میں پھنس جائے، اور پیٹ میں چلی جائے، تو کیا اس سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا ایسی صورت میں روزے کا کفارہ ادا کرنا ہوگا یا صرف قضا ؟ 

جواب

روزے کی حالت میں مچھر، مکھی یا ایسی چیزیں جن سے بچنا ناممکن یا دشوار ہو (جیسے گرد و غبار وغیرہ)، اگر خود بخود حلق میں چلی جائیں ، تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی قضا یا کفارہ لازم آتا ہے۔ البتہ اگر ان چیزوں کو جان بوجھ کر (قصدًا) نگل لیا جائے، تو روزہ ٹوٹ جائے گا اور اس کی قضا لازم ہوگی، مگر کفارہ نہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے : 

"وما ليس بمقصود بالأكل، ولا يمكن الاحتراز عنه كالذباب إذا وصل إلى جوف الصائم لم يفطره كذا في إيضاح الكرماني ولو أخذ الذباب، وأكله يجب عليه القضاء دون الكفارة."

(کتاب الصوم، ‌‌ الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد‌، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج:1، ص:203، ط:رشیدیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100854

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں