
روزہ کی حالت میں سگریٹ پینے سے روزہ رہے گا یا ٹوٹ جاۓ گا؟
روزہ کی حالت میں سگریٹ پینے سے روزہ ٹوٹ جائے گا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور و آواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس، ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله إمداد وبه علم حكم شرب الدخان."
(کتاب الصوم ، باب ما لا یفسد الصوم ومالا یفسدہ،ج:2،ص:395،ط:دار الفکر)
امداد المفتین میں ہے:
”سوال (۳۴۰) ظاہر ہے کہ اکل و شرب مفطرات میں سے ہیں۔ حقہ اور نسوار اگر مفطر ہیں تو اکل و شرب کی حیثیت سے ہیں اب شبہ یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کے جواز سے معلوم ہوتا ہے کہ اکل وشرب بغیر از ابتلاع و وصول الی الجوف نا تمام ہیں اس سے معلوم ہوا کہ حقہ اور نسوار بغیر مبالغہ کے مضمضہ اور استنشاق کا حکم رکھتے ہیں سعوط اور قطور کا بغیر وصول الی الجوف والدماغ غیر مفطر ہونا ان کا مؤید اور شاہد ہے غرض کہ اکل وشرب میری عقلِ ناقص میں بموجب دو فعلوں کا مجموعہ ہے وصول الی الفم والابتلاع افطار کا مدار اخیر پر ہے۔ شرب الدخان کا محاورہ مجاز پر مبنی ہے جیسے ہندی میں ہوا کھانا؟
(الجواب) یہ صحیح ہے کہ کسی چیز کا محض منہ کے اندر پہنچ جانا مفطر نہیں۔ دوسرا جزو یعنی ابتلاع کا فسادِ صوم کے لئے موقوف علیہ ہونا قابلِ غور ہے کیونکہ بصراحتِ فقہاء مدارِ فسادِ صوم یہ ہے کہ کوئی مفطر چیز جوفِ دماغ یا جوفِ معدہ میں پہنچ جائے خواہ ابتلاع کے ساتھ یا بغیر ابتلاع اسی وجہ سے ادویہ میں سعوط اور نیز حقنہ کو بالاجماع مفسدِ صوم مانا گیا ہے حالانکہ ابتلاع متحقق نہیں اور جب مدار یہ ہوا کہ مفطر کا وصول جوفِ دماغ یا معدہ میں ہو جائے تو بلاشبہ حقہ اور نسوار وغیرہ ناقصِ صوم ہو جائیں گے کیونکہ دماغ میں ان کا پہنچنا یقینی ہے ہاں اگر حقہ کا دم نہ بھرا جائے بلکہ ویسے ہی خفیف سا دھواں منہ میں آ جائے جو دماغ تک نہ پہنچ سکے یا نسوار کو ناک کے اندر رکھ کر ایسی طرح نکال دیا جائے کہ دماغ میں نہ پہنچ سکے تو بے شک وہ مفسدِ صوم نہیں لیکن عرفِ عام کے اعتبار سے ایسا ہونا بہت بعید بلکہ عادتاً متعذر کہا جائے تو صحیح ہے اس لئے حقہ پینے اور نسوار سونگھنے کو مفسدِ صوم ہی کہا جائے گا۔“
(کتاب الصوم ، فصل فیما یفسد للصوم وما یکرہ للصائم،ج:2،ص:414،ط:شکیل پریس کراچی)
فقط واللہ تعالی اعلم
فتویٰ نمبر : 144709100242
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن