
کیا روزے کی حالت میں مشت زنی کرنا گناہ ہے؟
مشت زنی کرنا گناہ ہے، احادیث میں اس پر لعنت اور وعید آئی ہے، یہ قبیح اور ناجائز فعل ہے، چہ جائے کہ روزے میں اس کا ارتکاب کیا جائے، روزہ میں تو اس کی قباحت وشناعت مزید بڑھ جاتی ہے۔ روزے کی حالت میں مشت زنی کے نتیجہ میں اگر انزال ہوجائے (منی نکل آئے) تو اس سے روزہ فاسد ہو جاتا ہے اور اس روزہ کی قضا لازم ہوتی ہے، البتہ کفارہ لازم نہیں ہوتا۔ایسے شخص پر صدق دل سے توبہ واستغفار کرنا لازم ہے۔
نیز ایسے شخص پر دن کا بقیہ وقت رمضان کے احترام میں کھانے پینے سے احتراز کرنا لازم ہے، لیکن اگر یہ کچھ کھا یا پی لیتا ہے تو گناہ گار ہوگا، لیکن اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"(أو أكل) أو جامع (ناسيا) أو احتلم أو أنزل بنظر أو ذرعه القيء (فظن أنه أفطر فأكل عمدا) للشبهة ولو علم عدم فطره لزمته الكفارة)۔۔۔۔۔ قال في البحر: وإنما لم تجب الكفارة بإفطاره عمدا بعد أكله أو شربه أو جماعه ناسيا؛ لأنه ظن في موضع الاشتباه بالنظير، وهو الأكل عمدا."
(کتاب الصوم ، ج : 2 ، ص : 401 ، ط :دار الفکر بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے :
" لو أكل أو شرب أو جامع ناسيا وظن أن ذلك فطره فأكل متعمدا لا كفارة عليه، وإن علم أن صومه لا يفسد بالنسيان عند أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - لا تلزمه هو الصحيح هكذا في الخلاصة.ولو ذرعه القيء فظن أنه يفطره فأفطر لا كفارة عليه، وإن علم أن ذلك لا يفطر فعليه الكفارة، كذا في البحر الرائق.وإذا احتلم فظن أن ذلك أفطره فأكل بعد ذلك متعمدا لا كفارة عليه هكذا في المحيط."
(کتاب الصوم ، ج : 1 ، ص : 206 ، ط : دار الفکر بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے :
"ومن أصبح في رمضان لا ينوي الصوم فأكل أو شرب أو جامع عليه قضاء ذلك اليوم ولا كفارة عليه عند أصحابنا الثلاثة."
(كتاب الصوم ، ج : 2 ، ص : 101 ، ط : دارالكتب العلمية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101686
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن