
اگر عورت نے رمضان المبارک کے دنوں میں فجر سے پہلے پاکی حاصل کر لی اور روزہ رکھ لیا اور پھر غسل حیض سے پہلے شرم گاہ کو صاف کرتے ہوئے حیض ختم ہونے کی تصدیق کی نیت سے شرم گاہ میں انگلی ڈالی تاکہ پتہ چل جائے کہ ڈسچارج پُوری طرح وائٹ ہے یا نہیں, اور اس عمل سے ذرا بھی لذت نہ حاصل ہوئی اور نہ ہی نیت تھی تو اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا؟
واضح رہے کہ شرم گاہ میں انگلی داخل کرنے سے روزہ ٹوٹنے کا مدار دو امور پر ہے:
1۔ روزے سے ہونا یاد ہو۔
2۔ انگلی گیلی ہو، خشک نہ ہو۔
پس ایسی روزہ دار خاتون جسے اپنا روزے سے ہونا یاد بھی ہو اور وہ گیلی انگلی (خواہ پانی سے ہو، یا تیل یا دوائی، یا شرم گاہ کی اندرونی رطوبت سے انگلی تر ہو) اپنی شرم گاہ میں داخل کرے، تو اس سے روزہ فاسد ہوجائے گا، صرف قضا لازم ہوگی، کفارہ لازم نہ ہوگا، البتہ اگر روزے کی حالت میں خشک انگلی ڈالے تو اس سے روزہ فاسد نہ ہوگا، تاہم ایک مرتبہ داخل کرکے نکالنے کے بعد واپس وہی انگلی شرم گاہ میں ڈالنے سے روزہ فاسد ہوجائے گا۔
ملحوظ رہے کہ شرم گاہ کے اوپری حصہ (جسے فرج خارج کہا جاتا ہے) پر آبِ دست (استنجا کے وقت دھونے) کے دوران گیلی انگلی لگانے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، مذکورہ حکم فرج داخل (اندرونی شرم گاہ) سے متعلق ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو أدخل أصبعه في استه أو المرأة في فرجها لا يفسد، وهو المختار إلا إذا كانت مبتلة بالماء أو الدهن فحينئذ يفسد لوصول الماء أو الدهن هكذا في الظهيرية. هذا إذا كان ذاكرا للصوم، وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ؛ لأن الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكرا للصوم، وإلا فلا، هكذا في الزاهدي."
(كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، النوع الأول ما يوجب القضاء دون الكفارة، ج: 1، ص: 204، ط: دار الفكر - بيروت)
تبيين الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"لو أدخلت الصائمة أصبعها في فرجها أو دبرها لا يفسد على المختار إلا أن تكون مبلولة بماء أو دهن
(قوله إلا أن تكون مبلولة بماء أو دهن) أي فإنه يفسد إن كانت ذاكرة صومها قلت وهذا تنبيه حسن يجب أن يحفظ إذ الصوم إنما يفسد في جميع الفصول إذا كان ذاكرا للصوم وإلا فلا اهـ دراية"
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج: 1، ص: 330، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144709100411
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن