بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں بھول کر کھانے سے روزہ کا حکم


سوال

نفلی روزے میں روزہ یاد ہی نہ تھا ،پانی پی لیا تقریباً گیارہ بجے تو روزہ کا کیا حکم ہوگا ؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں روزہ میں بھول کر کھانے پینے سے روزہ نہیں توٹتا، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو روزے میں بھول کر کھا، یا پی لے، اسے چاہیے کہ اپنا روزہ پورا کرے؛ اس لیے کہ اسے اللہ نے کھلایا اور پلایا ہے۔

حدیث میں ہے :

"عن أبي هريرة رضي الله عنه. قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "‌من ‌نسي ‌وهو ‌صائم، فأكل أو شرب، فليتم صومه. فإنما أطعمه الله وسقاه".

(كتاب الصيام، باب اكل الناسي وشربه وجماعه لا يفطر، ج:2، ص:809، ط:دارإحياء التراث العربي)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"إذا أكل الصائم أو شرب أو جامع ناسيا لم يفطر، ولا فرق بين الفرض والنفل كذا في الهداية."

(كتاب الصوم ، الباب الرابع فيما يفسد وفيما لا يفسد، ج:1، ص:202، ط: دارالفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144712100022

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں