بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1443ھ 27 ستمبر 2021 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں حیض روکنے کی دوا لینا


سوال

رمضان میں روزےکےحالت میں حیض آنے کے ڈر سے گولی کھائی اب کیا حکم ہے؟

جواب

حیض کا خون بند کرنے کے لیے دوا وغیرہ استعمال کرنا ناجائز تو  نہیں ہے، البتہ بسااوقات طبی لحاظ سے یہ عورت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے اور اس سے ماہواری کے ایام میں بے قاعدگی بھی ہوجاتی ہے، جس سے بہت سے مسائل پیدا ہوتے ہیں، جب کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ان ایام میں معذور رکھا ہے، ان دنوں میں نماز روزہ ادا نہ کرنے پر کوئی مؤاخذہ نہیں ہے، نماز معاف ہے، اور روزوں کی قضا دیگر ایام میں کرنی ہوتی ہے،  اور اس طرح کرنے سے عورت کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی ؛ لہٰذا ایسی مشقت اٹھانے اور تکلف کی ضرورت نہیں ہے، عورت کو چاہیے کہ رمضان میں مخصوص ایام کے دوران روزے چھوڑدے اور پاکی کے دنوں میں ان روزوں کی قضا کرلے۔ 

البتہ اگر کسی عورت نے  حیض آنے سے پہلے دوا  کھائی جس سے حیض کا خون نہیں آیا تو جب تک خون جاری نہ ہو وہ عورت پاک ہی شمار ہوگی، ان ایام میں نماز پڑھے گی اور روزہ رکھے گی، اور اس کا نماز اور روزہ ادا ہوجائے گا۔فقط واللہ اعلم


فتوی نمبر : 144110200474

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں