
1) میں روزہ تھا اور میرے جیب میں مسواک اور عطر ایک ساتھ رکھے تھے، اور جب میں نے وضو کرتے وقت مسواک استعمال کی تو مسواک کا ذائقہ میرے منہ میں محسوس ہوا اور شاید حلق میں بھی ذائقہ محسوس ہو رہا تھا۔اب اس روزے کا کیا حکم ہے؟
2) میں کافی وقت بعد دکان پر آیا اور دکان میں ایک گلاس میں کچھ لکویڈ رکھا ہوا تھا میں نے اس کو چیک کرنے کے لیے سنگھا تو اُس میں تھنر یا CTC میکس تھا جو میرے ناک میں بہت تیز محسوس ہوا اب اِس روزے کا کیا حکم ہے؟
1۔ صورتِ مسئولہ میں مسواک کرتے ہوئے مسواک کا ذائقہ منہ میں محسوس ہونے کی وجہ سے روزہ فاسد نہیں ہوا، اسی طرح عطر کے ساتھ مسواک رکھی ہونے کی وجہ سے مسواک میں جو خوشبو پیدا ہوئی، اس سے بھی روزہ فاسد نہیں ہوا۔
2۔ محض کسی چیز کی تیز بو یا مہک ناک میں جانے یا اسے سونگھنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بشرطیکہ وہ دھواں یا بھانپ نہ ہو جسے جان بوجھ کر ناک یا منہ کے راستے اندر کھینچا گیا ہو۔ پس تھنر یا سی ٹی سی (CTC) کی صرف تیز بو اگر ناک میں گئی ہو، تھنر کے اجزاء حلق تک نہیں پہنچے ہوں، تو اس سے آپ کے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑا، روزہ برقرار رہا۔
الفتاوى الهندية (عالمگیری) میں ہے:
"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا، قال أبو يوسف رحمه الله تعالى يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية: لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر: فلا بأس به عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج: 1، ص: 199، ط: دار الفكر)
وفیہ ایضاً:
"ولو مصّ الهليلج فدخل البزاق حلقه لم يفسد ما لم يدخل عينه، كذا في الظهيرية."
(كتاب الصوم، الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج: 1، ص: 203، ط: دار الفكر)
فتاوی شامی (رد المحتار) میں ہے:
"ولا يتوهم أنه كشم الورد ومائه والمسك لوضوح الفرق بين هواء تطيب بريح المسك وشبهه وبين جوهر دخان وصل إلى جوفه بفعله، إمداد."
(كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج: 2، ص: 395، ط: الحلبي)
فتاوی محمودیہ میں ہے:
"محض کسی خوش بو یا بدبو کے بے اختیار ناک میں جانے یا قصداً سونگھنے سے خواہ علاجاً ہو یا تنشیطاً روزہ فاسد نہیں ہوتا۔ اگر بتی، عطر، دوا، سب کا ایک حکم ہے، البتہ اگر بتی وغیرہ سلگا کر اس کا دھواں ناک میں پہنچانا مفسدِ صوم ہے۔"
(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم، ج: 10، ص: 153، ط: جامعہ فاروقیہ کراچی)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709102247
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن