بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں غبارے میں ہوا بھرنا


سوال

کیا روزے کی حالت میں غبارے میں ہوا بھرنا درست ہے؟ کیا اس سے روزہ ٹوٹنے یا مکروہ ہونے کا امکان ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں غبارے میں ہوا بھرنے سے روزہ ٹوٹنے یا مکروہ ہونے کا امکان نہیں ہے ، کیونکہ  غبارے میں ہوا بھرنے کی صورت میں سانس صرف باہر کی طرف خارج ہوتی ہے، اندر کوئی ایسی چیز نہیں جاتی جس سے روزہ ٹوٹ جائے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولو دخل حلقه غبار الطاحونة أو طعم الأدوية أو غبار الهرس، وأشباهه أو الدخان أو ما سطع من غبار التراب بالريح أو بحوافر الدواب، وأشباه ذلك لم يفطره كذا في السراج الوهاج."

(کتاب الصوم،الباب الرابع فیمایفسد ومالا یفسد، ج: 1، ص:203، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي."

(كتاب الصوم،‌‌باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده،ج:2،ص:395،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100193

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں