بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 محرم 1448ھ 25 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر کوئی شخص سفر کرکے نصف النہار سے پہلے وہاں پہنچ جائے اور روزہ کے منافی کوئی کام بھی نہ کیا ہوا تو اس کا روزہ فرض شمار ہوگا یا نفل ؟


سوال

 اگر کوئی شخص شعبان کی آخری تاریخ کو برصغیر پاک و ہند سے سفر کر کے خلیجی  ممالک جائے،  اور نصف النہار شرعی سے پہلے وہاں پہنچ جائے،  اوراس نے کچھ کھایا پیا نہ ہو یا سحری کی ہو (برصغیر میں روزہ رکھنے کی نیت سے) ، تو کیا یہ روزہ فرض شمار ہوگا یا نفل ؟  چونکہ اس کی صبح صادق برصغیر میں ہوئی ہے جہاں اب تک رمضان کا چاند نظر نہیں آیا  یا صبح صادق راستہ میں ہوئی ہے ، تو کیا اس کا یہ روزہ رمضان کا شمار ہوگا یا نہیں ؟ نیز اس کو اس ایک دن کی قضاء کرنی ہوگی؟

جواب

صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص جب سفر کرکے خلیجی ممالک کی طرف نکلا، اور اس دوران اس نے کچھ کھایا پیا نہیں ہے ،روزے کے منافی کام بھی کوئی نہیں کیا ، اور منزل ِ مقصود پر نصف النہار شرعی سے پہلے پہنچ  گیا ہےتو اس صورت  میں  روزہ کی نیت کی تواس کا یہ روزہ نفل شمار ہوگا، رمضان کا روزہ نہیں کہلائے گا، اگرچہ وہاں رمضان ہو، اس لیے  کہ  اس کے حق میں  رمضان کے روزوں کا وجوب ہی نہیں پایا گیا تھا،نیز اس پر اس دن کے روزے کی قضاء لازم نہیں ہوگی،البتہ  جس جگہ اس نے رمضان المبارک کا مہینہ شروع کیا ہے اس جگہ جتنے روزے ہوں گے وہ اس کو پورے کرنے ہوں گے ،اگر اس کے روزے عام لوگوں کے مقابلے میں ایک کم ہو تو بعد میں ایک روزہ رکھنا ہوگا۔

بدائع الصنائع ميں هے :

"وكذا إذا بلغ في يوم من رمضان قبل الزوال لا يجزئه صوم ذلك اليوم وإن نوى وليس عليه قضاؤه إذ لم يجب عليه في أول اليوم لعدم أهلية الوجوب فيه، والصوم لا يتجزأ وجوبا وجوازا ولما فيه من الحرج على ما ذكرنا.

وروي عن أبي يوسف في الصبي يبلغ قبل الزوال، أو أسلم الكافر أن عليهما القضاء، ووجهه أنهما أدركا وقت النية فصارا كأنهما أدركا من الليل، والصحيح جواب ظاهر الرواية لما ذكرنا أن الصوم لا يتجزأ وجوبا فإذا لم يجب عليهما البعض لم يجب الباقي، أو لما في إيجاب القضاء من الحرج."

(كتاب الصوم، فصل شرائط أنواع الصيام، ج:2، ص:87، ط:دار الكتب العلمية)

فقط اللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144509100180

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں