بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ دار کا مسواک کرنا


سوال

روزہ دار کا مسواک کرنا کیسا ہے؟

جواب

روزہ دار  کا  مسواک استعمال کرنا جائز ہے،  اس سے روزہ فاسد نہیں ہوتا، خواہ مسواک خشک ہو یا نہ ہو، اور دن کے کسی بھی حصہ میں مسواک کرنا  جائز ہے، اور اگر مسواک کرتے وقت  دانتوں اور  مسوڑھوں سے خون نکل آئے،  اسے تھوک دیا جائے، اندر نہ نگلا جائے تو بھی  روزہ فاسد نہیں ہوتا، اگرچہ خون کا رنگ تھوک پر غالب ہو۔

البتہ  اگر خون تھوک پر غالب ہو  یا برابر ہو اور روزہ دار  اپنے اختیار سے  اسے نگل لے تو روزہ  فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں ہو گا۔ 

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا، قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية: لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر: فلا بأس به عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان."

(کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج: 1، ص: 199، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100958

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں