
میری رہائش اٹک شہر میں ہے، اور مجھے روزانہ ملازمت کے لیے اسلام آباد جانا پڑتا ہے۔ میری رہائش سے دفتر تک کا فاصلہ تقریباً 91 کلومیٹر ہے۔ کیا اس صورت میں روزانہ میرے لیے ظہر، عصر، اور سردیوں میں مغرب کی نماز قصر ہوگی یا نہیں؟
واضح رہے کہ اگر کوئی شخص 48 میل یعنی 77.24 کلو میٹر یا اس سے زیادہ سفر کرنے کے ارادے سے نکلے،تو وہ شرعی مسافرشمار ہوگا،اور اس کے لیےنمازمیں قصر یعنی چار رکعت والی فرض نماز میں دو رکعت پڑھنا واجب ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ آپ کی رہائش اٹک شہر میں ہے اور ملازمت کے سلسلے میں روزانہ اٹک شہر سے اسلام آباد آنا جانا ہوتا ہے،تو اگر اٹک شہر کی حدود سے جائے ملازمت تک 77.24 کلومیٹر یا اس سے زائد مسافت بنتی ہے، تو آپ شرعی مسافر شمار ہوں گے، اور سفر کے دوران آنے والی ظہراور عصر کی نماز قصر پڑھی جائے گی۔البتہ مغرب کی نماز میں قصر نہیں ہے؛ وہ بدستور تین رکعت ہی ادا کی جائے گی۔
البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
"(قوله: من جاوز بيوت مصره مريدا سيرا وسطا ثلاثة أيام في بر أو بحر أو جبل قصر الفرض الرباعي) بيان للموضع الذي يبتدأ فيه القصر ولشرط القصر ومدته وحكمه أما الأول فهو مجاوزة بيوت المصر لما صح عنه - عليه السلام :أنه قصر العصر بذي الحليفة وعن علي أنه خرج من البصرة فصلى الظهر أربعا ثم قال: إنا لو جاوزنا هذا الخص لصلينا ركعتين والخص بالخاء المعجمة والصاد المهملة بيت من قصب كذا ضبطه في السراج الوهاج."
(کتاب الصلوٰة ،باب المسافر،ج:2 ص:138 ط: دارالكتاب الاسلامي)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"و لا بد للمسافر من قصد مسافة مقدرة بثلاثة أيام حتي يترخص برخصة المسافرين ... و لايزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية. "
(كتاب الصلاة، الباب الخامس عشر في صلاة المسافر، ج:1 ص:139 ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711102165
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن