
روزہ میں ٹوتھ پیسٹ کرناکیسا ہے ؟
اگر ٹوتھ پیسٹ کرتے وقت اس پیسٹ کے ذرات حلق میں چلے جائیں تو اس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے، اور اگر ذرات نہ بھی جائیں تو جانے کے احتمال ہونے کی وجہ سے روزہ مکروہ ہوگا؛ اس لئے روزہ کی حالت میں ٹوتھ پیسٹ استعمال نہ کرے البتہ خالی ٹوتھ برش استعمال کرنا جائز ہے۔
فتاوی شامی ميں ہے:
"(أو دخل حلقه مطر أو ثلج) بنفسه...(قضى) في الصور كلها (فقط)...(قوله: مطر أو ثلج) فيفسد في الصحيح."
(كتاب الصوم باب مایفسد الصوم وما لا یفسدہ ج: 2 ص: 403 /406 ط: ایچ ایم سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر فلا بأس به عند الكل كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الصوم الباب الثالث ج:1 ص: 220 ط: قدیمی کتب خانہ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144709101203
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن