
سحری کر کے رمضان کے قضا روزے کی نیت کر لی اور پھر فجر کی نماز کے بعد یاد آ یا کے طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے دوائی لینے جانا ہے اور وہاں لازمی دوائی بھی پینی ہوتی ہے اب اگر روزہ نہ رکھیں یا توڑ دیں تو اس میں کوئی گناہ تو نہیں ہو گا؟ یا روزہ نہیں توڑ سکتے؟
صورتِ مسئولہ میں جب ایک مرتبہ نیت کر کے قضاء روزہ رکھ لیا تو وہ روزہ پورا کرنا لازم ہے؛ تاہم بعد میں اگر کسی سخت بیماری کے لیے دوائی پینا یاد آ گیا یا دوائی نہ پینے کی صورت میں غالب گمان یا علامات یا تجربہ یا کسی مسلمان طبیب کے کہنے سے بیماری بڑھ جانے کا ڈر تھا تو دوائی پی کر روزہ توڑدینا جائز ہوگا اور گناہ بھی نہیں ہوگا۔ افطار کرنے سے رمضان کے روزے کی قضاء ساقط نہیں ہوگی بلکہ بعد میں اُسی ایک روزے کے بدلے ایک ہی روزے کی قضا لازم ہوگی، بصورتِ دیگر اس کے لیے دوائی پی کر روزہ توڑنا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها المرض) المريض إذا خاف على نفسه التلف أو ذهاب عضو يفطر بالإجماع، وإن خاف زيادة العلة وامتدادها فكذلك عندنا، وعليه القضاء إذا أفطر، كذا في المحيط. ثم معرفة ذلك باجتهاد المريض والاجتهاد غير مجرد الوهم بل هو غلبة ظن عن أمارة أو تجربة أو بإخبار طبيب مسلم غير ظاهر الفسق، كذا في فتح القدير. والصحيح الذي يخشى أن يمرض بالصوم فهو كالمريض، هكذا في التبيين. ولو كان له نوبة الحمى فأكل قبل أن تظهر الحمى لا بأس به، كذا في فتح القدير".
(کتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ج:1، ص:207، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144707102393
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن