بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں غلطی سے کھانا پینا


سوال

روزے میں غلطی سے پانی پینے کا کیا حکم ہے؟

جواب

اگر روزہ یاد تھا اور غلطی سے کچھ کھا  لیا یا پی لیا تو  روزہ ٹوٹ جائے گا اور صرف  قضاء لازم ہے، کفارہ نہیں ۔

البتہ اگر روزہ یاد نہیں تھا اور بھول سے کچھ کھاپی لیا تو اس صورت میں روزہ نہیں ٹوٹے گا ۔

بھول اور غلطی میں فرق یہ ہے کہ  بھول میں روزہ یا د ہی نہیں ہوتا کہ روزہ ہے یا نہیں ،انسان اپنے آپ کو عام احوال کی طرح  سمجھ  کر کھاپی لیتا ہے ،جب کہ غلطی میں روزہ یا د ہوتاہے کہ میرا روزہ ہے،کچھ کھانا پینا نہیں ہے ،لیکن غلطی سے یعنی بلا قصد و عمد  کھانے پینے کی چیز اس کے حلق سے اترجاتی ہے ،مثلا: وضو کے دوران کلی کرتے وقت پانی حلق میں چلاجائے وغیر ه۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وعلى هذا الأصل ينبني بيان ما يفسد الصوم وينقضه لأن انتقاض الشيء عند فوات ركنه أمر ضروري، وذلك بالأكل، والشرب، والجماع سواء كان صورة ومعنى، أو صورة لا معنى، أو معنى لا صورة وسواء كان بغير عذر، أو بعذر وسواء كان عمدا، أو خطأ طوعا، أو كرها بعد ‌أن ‌كان ‌ذاكرا ‌لصومه لا ناسيا ولا في معنى الناسي."

(فصل فی ارکان الصیام ج:2، ص:90، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"وإن تمضمض أو استنشق فدخل الماء جوفه إن كان ذاكرا لصومه فسد صومه وعليه القضاء، وإن لم يكن ذاكرا لا يفسد صومه كذا في الخلاصة وعليه الاعتماد."

(كتاب الصوم , الباب الرابع فيما يفسد وما لا يفسد، ج:1، ص:202،  ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709101442

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں