بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 ذو الحجة 1447ھ 09 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حاضری اور مسجدِ نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنے کا حکم


سوال

میں حج پر جارہا ہوں۔ وہاں روضۂ رسول علی صاحبہا الصلوات والتسلیمات کی حاضری میں  کیا نیت کرنی چاہیے؟ شہرِ مدینہ منورہ کی یا روضۂ رسول کی زیارت کی؟

نیز کیا وہاں جاکر چالیس نمازیں پڑھنا فرض ہے یا واجب؟

جواب

واضح رہے کہ روضۂ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ایک عظیم سعادت اور مستحب عمل ہے، بلکہ بعض فقہاء کے نزدیک صاحبِ استطاعت کے لیے روضۂ رسول کی زیارت واجب کے درجہ میں ہے۔ لہٰذا مدینہ منورہ حاضری کے وقت اصل نیت روضۂ رسولِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہونی چاہیے۔ البتہ ساتھ میں مسجدِ نبوی کی حاضری اور وہاں نماز کی نیت بھی شامل کرلینا نہ صرف جائز بلکہ باعثِ اجر ہے۔

 علامہ ابنِ ہمام رحمہ اللہ نے اسی بات کو ترجیح دی ہے کہ زائر کی نیت خالص زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ہونی چاہیے، اس سے مسجدِ نبوی کی زیارت اور نماز کا شرف بھی حاصل ہوجائے گا؛ کیونکہ اس میں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ تعظیم اور ادب پایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ارشاد سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جو شخص صرف میری زیارت (مزارِ اقدس پر حاضری) کے ارادے سے آئے، اس کے علاوہ اس کی کوئی اور حاجت نہ ہو، تو مجھ پر حق ہے کہ میں قیامت کے دن اس کی سفارش کروں۔“

لہٰذا حاجی کو چاہیے کہ مدینہ منورہ جاتے وقت اپنے دل میں بالخصوص زیارتِ روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت اور شوق رکھے، اور یہی سفرِ مدینہ کا اصل مقصد اور مطمحِ نظر ہونا چاہیے۔ ساتھ میں مسجدِ نبوی کی حاضری اور وہاں نماز کی نیت بھی شامل کرلینا درست ہے۔

باقی مسجدِ نبوی میں چالیس نمازیں ادا کرنا فرض یا واجب نہیں، بلکہ فضیلت اور ثواب کا عمل ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جس شخص نے میری مسجد (مسجدِ نبوی) میں چالیس نمازیں اس طرح ادا کیں کہ (درمیان میں) کوئی نماز فوت نہ ہوئی ہو  تو اس کے لیے آگ سے براءت، عذاب سے نجات لکھ دی جاتی ہے اور یہ کہ وہ نفاق سے بری ہے۔“ لہٰذا اگر کسی کو موقع مل جائے تو یہ بڑی سعادت ہے، تاہم عذر، مجبوری یا واپسی کی وجہ سے چالیس نمازیں مکمل نہ ہوسکیں تو کوئی گناہ نہیں ہوگا۔

مسند امام احمد میں ہے:

"عن أنس بن مالك عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال «من صلى في مسجدي أربعين صلاة لا يفوته صلاة كتبت له براءة من النار ونجاة من العذاب وبرئ من النفاق»."

(مسند أنس بن مالك، رقم الحديث:12583، ج:20، ص:40، ط:  مؤسسة الرسالة بیروت)

سننِ کبری بیہقی میں ہے:

"عن مجاهد، عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌حج ‌فزار ‌قبري بعد موتي كان كمن زارني في حياتي»."

(باب زيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث:10274، ج:5، ص:403، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

وفيه أيضاً:

"عن نافع، عن ابن عمر، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: «صلاة في مسجدي هذا أفضل من ألف صلاة في غيره من المساجد إلا المسجد الحرام»."

(‌‌باب فضل الصلاة في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث:10277، ج:5، ص:404، ط:دار الكتب العلمية، بيروت)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"(خاتمة في زيارة قبر النبي صلى الله عليه وسلم) قال مشايخنا رحمهم الله تعالى: إنها أفضل المندوبات وفي مناسك الفارسي وشرح المختار أنها قريبة من الوجوب لمن له سعة، والحج إن كان فرضا فالأحسن أن يبدأ به ثم يثني بالزيارة وإن كان نفلا كان بالخيار، فإذا نوى زيارة القبر فلينو معه زيارة مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنه أحد المساجد الثلاثة التي تشد إليها الرحال وفي الحديث «لا تشد الرحال إلا لثلاثة مساجد المسجد الحرام ومسجدي هذا والمسجد الأقصى»."

(كتاب المناسك، ج:1، ص:265، ط:المكتبة الرشيدية كوئته)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وزيارة قبره مندوبة، بل قيل واجبة لمن له سعة. ويبدأ بالحج لو فرضا، ويخير لو نفلا ما لم يمر به فيبدأ بزيارته لا محالة ولينو معه زيارة مسجده، فقد أخبر «أن صلاة فيه خير من ألف في غيره إلا المسجد الحرام».

وفي الرد: (قوله ولينو معه إلخ) قال ابن الهمام: والأولى فيما يقع عند العبد الضعيف تجريد النية لزيارة قبره عليه الصلاة والسلام، ثم يحصل له إذا قدم زيارة المسجد أو يستمنح فضل الله تعالى في مرة أخرى ينويها فيها لأن في ذلك زيادة تعظيمه صلى الله عليه وسلم وإجلاله، ويوافقه ظاهر ما ذكرناه من قوله صلى الله عليه وسلم «من جاءني زائرا لا تحمله حاجة إلا زيارتي كان حقا علي أن أكون شفيعا له يوم القيامة» . اهـ. ح. ونقل الرحمتي عن العارف المنلا جامي أنه أفرز الزيارة عن الحج حتى لا يكون له مقصد غيرها في سفره."

(كتاب الحج، باب الهدي، فروع في الحج، ج:2، ص:627، ط:ايج ايم سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101261

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں