بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں خوشبو استعمال کرنے کا حکم


سوال

روزے کی حالت میں خوشبو لگانا کیسا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں خوشبو استعمال کرنا جائز ہے،بشرط یہ کہ خوشبو دھویں والی نہ ہو،اگر دھویں والی خوشبو ہو اور اس  کا دھواں خود بخود حلق میں چلا جائےاس سے تو روزہ فاسدنہیں ہوتا،البتہ اگردھویں والی خوشبو ،بخور وغیرہ جلائی اور اس کو جان بوجھ کر سونگھا اور دھواں اندر چلا گیا،تو  اس سے روزہ ٹوٹ جائے گا،اور قضا لازم ہو گی،کفارہ نہیں۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو دخل حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه، ومفاده أنه لو أدخل حلقه الدخان أفطر أي دخان كان ولو عودا أو عنبرا له ذاكرا لإمكان التحرز عنه فليتنبه له كما بسطه الشرنبلالي."

(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج:2، ص:395، ط:ایچ ایم سعید)

وفیہ ایضاً:

"(قوله: أنه لو أدخل حلقه الدخان) أي بأي صورة كان الإدخال، حتى لو تبخر ببخور وآواه إلى نفسه واشتمه ذاكرا لصومه أفطر لإمكان التحرز عنه وهذا مما يغفل عنه كثير من الناس."

(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج:2، ص:395، ط:ایچ ایم سعید)

فتاوی محمودیہ میں ہے :

’’محض کسی خوش بو یا بدبو کے بے اختیار ناک میں جانے یا قصداً سونگھنے سے - خواہ علاجاً ہو یا تنشیطاً - روز فاسد نہیں ہوتا۔ اگر بتی، عطر، دوا، سب کا ایک حکم ہے، البتہ اگر بتی وغیرہ سلگا کر اس کا دھواں ناک میں پہنچانا مفسدِ صوم ہے‘‘۔ (ج۱۰ / ص۱۵۳، ط: فاروقیہ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100048

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں