بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

نابالغ بچی کی پرورش و تربیت کا شرعی حق دار کون؟


سوال

ایک نابالغ بچی کی زندگی کے تمام فیصلوں کی شرعی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ کیا یہ ذمہ داری اس کے والدین پر ہے یا پھوپھی پر؟

یہ سوال میں اس لیے کر رہی  ہوں کہ میری نومولود بچی کی پھوپھی (یعنی شوہر کی بہن) اس کی پرورش اور تربیت کا دعویٰ کر رہی ہے، حالانکہ وہ دین سے بہت دور ہے اور مادہ پرست اور لبرل سوچ کی مالک ہے۔

میں چاہتی ہوں کہ اپنی بیٹی کو اسلامی ماحول میں خود تربیت دوں تاکہ اس کی دینی و اخلاقی نشوونما درست ہو۔

برائے کرم واضح فرما دیں کہ شرعی طور پر ایک بچی کی پرورش و تربیت کا اصل حق دار کون ہوتا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں نابالغ بچے یا بچی کی پرورش (حضانت) کا شرعی حق سب سے پہلے اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے۔ اگر والدہ موجود نہ ہو یا حضانت کی اہل نہ ہو، تو یہ حق ان خواتین کو بالترتیب حاصل ہوتا ہے جو بچے کی محرم ہوں: نانی، پھر دادی، پھر حقیقی بہن، پھر ماں شریک بہن، پھر خالہ، پھر باپ شریک بہن، اور آخر میں پھوپھی۔

پرورش (حضانت) کی مدت یہ ہے کہ اگر بچہ ہو تو سات سال کی عمر تک، اور اگر بچی ہو تو نو سال کی عمر تک یہ حق ان خواتین کے لیے ثابت ہوتا ہے۔ اس مدت کے بعد بچے یا بچی کو والد کے سپرد کیا جاتا ہے تاکہ وہ ان کی باقی زندگی میں دینی، اخلاقی اور عملی تربیت کا اہتمام کرے۔ والدین کی موجودگی میں کسی اور رشتہ دار، مثلاً پھوپھی وغیرہ، کے لیے پرورش کا شرعی حق ثابت نہیں ہوتا۔ لہٰذا شرعی طور پر بچی کی پرورش و تربیت کی اصل ذمہ داری والدین پر ہے۔

البتہ بچے کے تعلیمی، تربیتی، تجارتی اور نکاح سے متعلق تمام اہم فیصلوں کا سرپرست والد ہوتا ہے، اور اگر والد موجود نہ ہو تو یہ حق اس کے وصی، پھر دادا، پھر دادا کے وصی، پھر قاضی، اور پھر قاضی کے وصی کو حاصل ہوتا ہے۔

شرح مختصر الطحاوی میں ہے:

"وإذا كان كذلك لم يكن للأب ولاية في إمساكه وحضانته مع الأم، وكانت الأم أولى به لحق الصغير.

قال أبو جعفر: (ثم الجدة التي من قبل الأم، ثم الجدة من قبل الأب، ثم الأخت من الأب والأم، ثم الأخت من قبل الأم، ثم الخالة، ثم الأخت من الأب، ثم العمة)."

(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:5،ص:322،ط:دار البشائر الإسلامية)

فتاوی شامی میں ہے:

"مطلب: شروط الحضانة.

قال الرملي: ويشترط في الحاضنة أن تكون حرة بالغة عاقلة أمينة قادرة، وأن تخلو من زوج أجنبي، وكذا في الحاضن الذكر سوى الشرط الأخير، هذا ما يؤخذ من كلامهم. اهـ.قلت: وينبغي أن يزيد بعد قوله " حرة ": أو مكاتبة ولدت في الكتابة وأن يزيد أن تكون رحما محرما ولم تكن مرتدة ولم تمسكه في بيت المبغض للولد ولم تمتنع عن تربيته مجانا عند إعسار الأب وسيأتي بيان ذلك كله، والمراد بكونها أمينة أن لا يضيع الولد عندها باشتغالها عنه بالخروج من منزلها كل وقت وأفتى بعض المتأخرين بأن المراهقة لها حق الحضانة، لقول العيني: أحكام المراهقين أحكام البالغين في سائر التصرفات."

(کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، ج:3، ص:555/556، ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والأم والجدة ‌أحق ‌بالغلام حتى يستغني وقدر بسبع سنين وقال القدوري حتى يأكل وحده ويشرب وحده ويستنجي وحده وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين والفتوى على الأول والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى - إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق وهذا صحيح هكذا في التبيين."

(كتاب الطلاق، ج:1، ص:542، ط:دار الفكر)

النھایہ فی شرح الھدایہ میں ہے:

"(ثم صحة الإذن له من وليه ووليه أبوه، ثم وصي الأب، ثم الجد أب الأب، ثم وصيه، ثم القاضي أو وصي القاضي، فأما الأم، أو وصي الأم فلا يصح منهم الإذن له في التجارة(10)؛ لأنه غير ولي له في التصرفات مطلقا، فهو كالأجنبي إلا فيما يرجع إلى حفظه؛ ولهذا لا يملك بيع عقاره، والإذن في التجارة ليس من الحفظ؛ فلهذا لا يملكه)"

(کتاب الماذون، ترتیب الولی، ج:21،ص:95،ط:مركز الدراسات الإسلامية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101873

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں