
میری نانی کہتی ہیں کہ میں نے اور میرا ایک خالہ کا بیٹا ہے ہم دونوں نے بچپن میں نانی کا دودھ پیا تھا ،تو میرا سوال یہ ہے کہ کیا میرا اس کزن سے پردہ کرنا لازم ہوگا؟ اور اس کے بھائیوں سے بھی پردہ کرنا ہوگا یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتًا سائلہ اور اس کے خالہ زاد بھائی نے مدتِ رضاعت میں سائلہ کی نانی کا دودھ پیا ہے، تو ایسی صورت میں سائلہ اور اس کے مذکورہ خالہ زاد بھائی کے درمیان رضاعت کا رشتہ قائم ہوچکا ہے، اور دونوں رضاعی بہن بھائی بن چکے ہیں، لہذا محرم ہونے کی وجہ سے سائلہ پر اپنے مذکوہ خالہ زاد بھائی سے پردہ کرنا لازم نہیں، البتہ خالہ کے جن بیٹوں نے سائلہ کی نانی کا دودھ نہیں پیا ان سے پردہ کرنا لازم ہے، نیز رضاعی بھائی سے بھی بے تکلفی سے احتراز کرنا ضروری ہے ا ور ان کے ساتھ تنہائی میں ملاقات کرنا بھی درست نہیں۔(اصلاح الرسوم، دوسرا باب، چھٹی فصل، ص:115، ط: دینی بک ڈپو دہلی)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن عائشة رضي الله عنها، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب."
(كتاب النكاح، باب يحرم من الرضاع ما يحرم من النسب، ج: 1، ص: 623، ط: دار إحياء الكتب العربية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(قوله : إلا الأخت رضاعا) قال في القنية: وفي استحسان القاضي الصدر الشهيد، وينبغي للأخ من الرضاع أن لا يخلو بأخته من الرضاع، لأن الغالب هناك الوقوع في الجماع اهـ. وأفاد العلامة البيري أن ينبغي معناه الوجوب هنا."
(كتاب الحظر والإباحة، فصل في النظر والمس، ج: 6، ص:369، ط: سعيد)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144707100084
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن