بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ممتدۃ الطھر کی عدت


سوال

ایک شخص نے کہا: ”اگر میں نے فلاں شخص سے لین دین کیا تو مجھ پر بیوی کو تین طلاق ہے۔“۔ اب یہ شخص چاہتا ہے کہ طہر کی حالت میں بیوی کو طلاق دے، تاکہ عدت پوری ہونے کے بعد لین دین کر کے دوبارہ نکاح کر لے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ عورت کو گزشتہ چھ ماہ سے بیماری کی وجہ سے ماہواری نہیں آ رہی۔ ایسی صورت میں عدت کیا ہوگی؟ کیا نو ماہ، ایک سال، یا اگر ماہواری بالکل ہی نہ آئے تو اس کا کیا حکم ہوگا؟

وضاحت:شوہر بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ ایک طلاقِ بائن دے چکا ہے:
’’میں اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دیتا ہوں‘‘۔تاہم ابھی تک بیوی عدت میں ہے، اور شوہر نے تاحال مذکورہ شخص کے ساتھ کوئی لین دین نہیں کیا ہے۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کی عدت تین ماہواریاں ہیں۔ اور اگر کسی بیماری کی وجہ سے ماہواری بند ہوچکی ہو تو عورت کو سنِ ایاس یعنی پچپن سال کی عمر تک انتظار کرنا ہوگا، اس کے بعد اس کی عدت تین ماہ ہوگی۔

لہذا اولاً تو مذکورہ عورت کو  چاہیے کہ اپنا علاج کرائے۔ اگر علاج کے نتیجے میں ماہواری جاری ہوجائے تو عدت گزرنے کے بعد شوہر مذکورہ شخص سے لین دین کرکے دوبارہ تجدیدِ نکاح کرلے، اس طرح تین طلاق سے بچنے کی صورت بن جائے گی۔ اور اگر علاج کے باوجود عورت کی ماہواری جاری نہ ہو تو شوہر کو چاہیے کہ مذکورہ شخص سے لین دین نہ کرے، بلکہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ تجدیدِ نکاح کرلے۔ بہر دو صورت آئندہ شوہر کو دو طلاق کا اختیار حاصل ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"وخرج بقوله (ولم تحض) الشابة الممتدة بالطهر بأن حاضت ثم امتد طهرها، فتعتد بالحيض إلى أن تبلغ سن الإياس جوهرة وغيرها.

(قوله: بأن حاضت) أي ثلاثة أيام مثلا (قوله: ثم امتد طهرها) أي سنة، أو أكثر بحر".

(کتاب الطلاق، باب العدۃ، ج:3، ص:508، ط:سعید)

وفیه أیضاً:

"(وتنحل) اليمين (بعد) وجود (الشرط مطلقا) لكن إن وجد في الملك طلقت وعتق وإلا لا، فحيلة من علق الثلاث بدخول الدار أن يطلقها واحدة ثم بعد العدة تدخلها فتنحل اليمين فينكحها.

(قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، 352/3، ط:سعید)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100721

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں