
Ro پلانٹ کے ذریعے فلٹر کرکے پانی بیچنے کا کیا حکم ہے؟
واضح رہے کہ ویسے تو پانی ان اشیاء میں سے ہے جن کو اللہ پاک نے ہرایک کے لیے مباح بنایا ہے، اس کی خرید وفروخت منع ہے۔
لیکن اگر کوئی شخص پانی کو برتن، مشکیزہ، ٹینک، کین وغیرہ میں محفوظ کرلے تو وہ اس کی ملکیت قرار پاتا ہے۔ اب اس کو اختیار ہے خواہ مفت دے یا مال کے عوض بیچے، اس صورت میں ازروئے شرع اس کی خرید وفروخت کی جاسکتی ہے؛ لہذا مختلف کمپنیاں جو پانی کو فلٹر وغیرہ کرکے بوتلوں میں بھر کر فروخت کرتی ہیں، شرعاً یہ جائز ہے ، البتہ اس سلسلے میں قانونی طور حکومتی اجازت نامہ ضروری ہو تو اس کی اورحفظانِ صحت کے اصولوں کی رعایت رکھی جائے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه."
(کتاب البیوع، الباب التاسع فيما يجوز بيعه وما لا يجوز، الفصل السابع في بيع الماء والجمد، ج:3، ص: 121، ط: دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"إن صاحب البئرلایملك الماء ... و هذامادام في البئر، أما إذا أخرجه منها بالاحتیال، کمافي السواني فلاشك في ملکه له؛ لحیازته له في الکیزان، ثم صبه في البرك بعد حیازته".
(کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، مطلب في حكم إيجار البرك للاصطياد، ج: 5، ص:67، ط: سعید)
وفیہ ایضاً:
"(والمحرز في كوز وحب) بمهملة مضمومة الخانية (لا ينتفع به إلا بإذن صاحبه) لملكه بإحرازه.
(قوله والمحرز في كوز أو حب) مثله المحرز في الصهاريج التي توضع لإحراز الماء في الدور كما حرره الرملي في فتاواه وحاشيته على البحر، وأفتى به مرارا وقال: إن الأصل قصد الإحراز وعدمه، ومما صرحوا به لو وضع رجل طستا على سطح، فاجتمع فيه ماء المطر فرفعه آخر، إن وضعه الأول لذلك فهو له وإلا فللرافع اهـ ويشهد له ما قدمناه على القهستاني (قوله لا ينتفع به إلخ) إذ لا حق فيه لأحد كما قدمناه (قوله لملكه بإحرازه) فله بيعه ملتقى."
(کتاب احیاء الموات ،فصل فی الشرب، ج:6، ص: 439، ط: سعید)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144711100289
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن