
ایک حدیث سننے میں آرہی ہے کہ قیامت کے قریب رمضان کے مہینے میں ایک ستون مشرق کی طرف اُٹھے گا تو وہ سال قحط کاسال ہوگا ، کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ اور اگر صحیح ہے تو کیا آج کے حالات پر صادق آرہی ہے؟
سوال میں جو روایت ذکر کرکے اُس کی تخریج وتحقیق اور تشریح سے متعلق دریافت کیاگیا ہے، مذکورہ روایت ہماری جستجو کے مطابق اوّلاً "المعجم الأوسط للطبراني"میں مذکور ہے، بعد ازاں اُسی کے حوالے سے "مجمع الزوائد ومنبع الفوائد للهيثمي"، "كنز العمال لعلي المتقي الهندي"،"جمع الجوامع للسيوطي"ودیگر کتب میں مذکور ہے۔"المعجم الأوسط للطبراني"میں مذکورہ روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حدَّثنا أحمد بن رِشْدِيْنَ، قال: نا زيد بن بِشْر الحضرمي، قال: نا بِشْر بن بكر، قال: حدَّثتني أمُّ عبد الله ابنة خالد بن معدان عن أبيها عن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم-: إذا رأيتم عمودًا أحمر قِبَل المشرق في رمضان، فادَّخِروا طعام سنتكم، فإنها سنة جوع. لم يروِ هذا الحديث عن أمِّ عبد الله ابنة خالد إلّا بِشْر بن بكر، تفرَّد به زيد بن بِشْر".
(المعجم الأوسط، باب الألف، من اسمه أحمد، 1/119، رقم: 371، ط: دار الحرمين - القاهرة)
ترجمہ:
’’(حضرت) عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم رمضان المبارک کے مہینے میں مشرق کی طرف سرخ ستون دیکھو تو(مہنگائی کے اندیشہ سے) ایک سال کا غلہ/خوراک ذخیرہ کر لو، کیوں کہ یہ قحط اور بھوک کا سال ہوگا‘‘۔
مذکورہ روایت، سند میں موجود ایک راوی ’’ام عبد اللہ ‘‘ کے مجہول ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے ، تاہم"كتاب الفتن لنعيم بن حماد المروزي"میں اس کے ہم معنی ایک اور روایت موجود ہے، جس سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے،لہذا اسے بیان کیا جاسکتا ہے۔
شارحینِ حدیث رحمہم اللہ کی بیان کردہ تفصیل کے مطابق مذکورہ روایت کی تشریح درج ذیل ہے:
جب تم آسمان کے اطراف میں ایسی لکیر دیکھو جو رمضان المبارک کے مہینے میں مشرق کی جانب سے ظاہر ہو تو یہ لکیر قحط سالی کی علامت ہے، اس لیے جس سال یہ علامت ظاہر ہو اُس سال مہنگائی کے اندیشہ سے اپنے اہل وعیال کے لیے ایک سال کا غلہ/خوراک ذخیرہ کرلو؛ تاکہ تمہارے دل مطمئن رہیں، اس لیےکہ یہ قحط اور بھوک کا سال ہوگا،اور یہ ذخیرہ اندوزی توکل کے منافی نہیں ہے؛اس لیے کہ سید المتوکِّلین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل وعیال کےلیے ایک سال کا غلہ/خوراك ذخیرہ کرنا ثابت ہے۔
یہ ممکن ہے کہ اس علامت کا ظاہر ہونا خاص اُسی سال میں قحط اور بھوک کی علامت ہوگی اور بعد میں اس علامت کے ظاہر ہونے کا کوئی اثر نہیں ہوگا، حافظ ابنِ جریر رحمہ اللہ کی یہی رائے ہے۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس سال بھی یہ علامت ظاہر ہوگی ایسا ہی ہوگا۔نیز اس روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے براہِ راست خطاب فرمایا ہے ، ممکن ہے اس سے مراد خاص طور پر اہلِ حجاز ہوں اور یہ قحط اور بھوک اُنہی کے علاقوں میں ہو، اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ علامت عمومی طور پر پوری دنیا والوں کے لیے ہو۔
پھر اس علامت کے رمضان المبارک کے مہینے میں ہونے کی حکمت یہ ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں شبِ قدر میں رزق کی تقدیر اور اندازہ وغیرہ لوحِ محفوظ سے نقل کرکے حضرت میکائیل علیہ السلام کے حوالے کیا جاتا ہے، اس لیے یہ مناسب تھا کہ وہ علامت بھی اُسی مہینے میں ظاہر ہو جس مہینے میں رزق کی تقدیر اور اندازہ لکھ کر اُسے فرشتوں کے حوالے کیا جاتا ہے۔اور اس علامت کے چوڑائی یاگولائی وغیرہ صورتوں کی بجائے عمودی صورت دراز ہونے میں اس طرف اشارہ ہے کہ اُس سال کا شر لمبا ئی میں ہوگا اور اُس کی قحط سالی پھیلی ہوئی مشکل ہوگی۔اور اس علامت کے سرخ میں ہونے میں حکمت یہ ہے کہ سرخ رنگ مذموم اور ناپسندیدہ ہے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ ایمان کو اس سے منع فرمایا ہے تو اس ناپسندیدہ رنگ کو ناپسندیدگی اور ہموم وغموم کےحصول کی علامت قرار دیا ،نیز اہلِ عرب قحط سالی کے سال کو ’’سرخ سال‘‘ کہا کرتے تھے؛ اسی لیے قحط سالی اور بھوک والے سال کی علامت سرخ رنگ کو قرار دیا۔
"مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"میں ہے:
"وعن عبادة بن الصامت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله - صلّى الله عليه وسلّم -: إذا رأيتُم عمودًا أحمر قِبَل المشرق في شهر رمضان فادَّخِروا طعام سنتكم، فإنها سنة جوع.رواه الطبراني في "الكبير" و"الأوسط"، وفيه أمُّ عبد الله ابنة خالد بن معدان ولم أعرفها، وبقيّة رجاله ثقات".
(مجمع الزوائد، كتاب الأطعمة، باب ادخار القوت، 5/35، رقم: 7980، ط: مكتبة القدسي - القاهرة)
"فيض القدير شرح الجامع الصغير"میں ہے:
"(إذا رأيتم) في نواحي السَّماء (عمودًا أحمر) أي: خطًّا يُشبه العمود الأحمر يظهر (من قِبَل) بكسر ففتح، أي: من جهة (المشرق في شهر رمضان) فإن ذلك علامة الجدب والقحط (فادَّخِروا) أمر إرشاد (طعام سنتكم) أي: قوت عيالكم تلك السّنة التي مبدؤها ظهور ذلك؛ لتطمئنَّ قلوبكم، وذلك لا يُنافي التوكُّل بدليل ادِّخار سيِّد المتوكِّلين المصطفى -صلَّى الله عليه وآله وسلَّم- قُوت عياله سنةً (فإنَّها سنة جوع) يجوز أن يكون ظهور ذلك علامة للقحط في تلك السَّنة ولا أثر لظهوره فيما بعدها، وهو ما عليه ابن جرير، ويحتمل أنَّه كلما ظهر في سنة كانت كذلك. ثُمّ هذا خطاب مُشافهةً، فيحتمل أن يكون خاصًّا بأهل الحجاز وأنَّ الجوع يكون في إقليمهم فقط، ويحتمل العموم. وحكمة التَّخصيص أنّه لما كان نسخة لتقدير الأرزاق وتقديرها وإقرارها على ما اقتضاه القضاء الإلهي فيُستنسخ من اللوح المحفوظ في ليلة القدر التي هي في رمضان وتُسلَّم إلى ميكائيل الذي هو الملك الموكَّل بذلك كما أخرجه محيي السنة وغيره، ناسب أن يكون ظهور العلامة في الشهر الواقع فيه الاستنساخ وتسليم الصحف. وحكمة كون ذلك على الصورة العُمودية التي هيئتها الاستطالة دون التربيع والاستدارة وغيرها من الأشكال الإشارة إلى أنَّه عام يكون شرُّه مستطيرًا ويكون جدبه مستمدًا عسيرًا وحكمة كونه أحمر أنَّ الحمرة لون مذموم؛ فقد نهى عنه المصطفى -صلَّى الله عليه وسلَّم- أهل الإيمان، وذلك أن الشَّيطان يتزيَّن به ويؤثِّره على غيره من الألوان كما ورد في عدة أخبار حِسان، فجعل اللَّون المكروه المذموم علامةً على حصول المكروه وموقع الهموم والغموم، والعرب تُسمِّي عام المحل السنة الحمراء، وتصف سنة الجدب بالطول، وعليه جرى العرف العام بين الأنام فيُقال لليلة الشديدة كانت ليلةً طويلةً، وتُسمى نزع الروح من الجسد الذي هو أعظم العذاب بالحُمْرة، فيُقال: هذا هو الموت الأحمر؛ فلذلك جعل علامة سنة الجوع حمراء. وفيه أنه لا بأس بادِّخار القوت خوف الغلاء، وأنّه لا يُنافي التوكُّل، لكن الكلام في ادِّخار غلَّة أرضه أو ما يشتريه لمُؤْنة عياله كما يأتي. والإذخار بذال معجمة إعداد الطعام لوقت الحاجة. والخطاب لأهل تلك الديار، أعني الأقطار الحجازية كما مرَّ ويحتمل العموم (طب عن عبادة بن الصامت) قال الهيثمي: فيه أمُّ عبد الله بن خالد بن معدان ولم أعرفها، وبقية رجاله ثقات، انتهى. وله شواهد، منها: ما أخرجه نُعيم بن حمَّاد في "كتاب الفتن" من حديث خالد بن معدان: إذا رأيتم عمودًا من نار من قِبَل المشرق في شهر رمضان في السَّماء فاتَّخِذوا من الطعام ما استطعتم، فإنها سنة جوع".
(فيض القدير، حرف الهمزة، 1/361، رقم: 645، ط: المكتبة التجارية الكبرى - مصر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100749
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن