بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

22 محرم 1448ھ 08 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

روايت: ’’میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ۔۔۔ الخ‘‘ کی تخریج وتحقیق


سوال

 درج ذیل دو حدیثوں کے بارے میں کچھ معلومات چاہتا ہوں:

1:حدیث: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت۔

2: حدیث: میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی اہلِ بیت۔

ان دونوں حدیثوں کے حوالہ جات درکار ہیں کہ حدیث کی کن کن کتابوں میں مذکور ہیں؟ مجھے امید ہے کہ میرے ان سوالات کا تسلی بخش جواب عنایت فرمائیں گے۔

جواب

سوال میں جن دو روایتوں کا  مفہوم  ذکر کرکے اُن کےحوالے سے متعلق دریافت کیا گیا ہے، مذکورہ دونوں روایتوں کے متعلق تفصیل حسبِ ترتیب درج ذیل ہے:

۱۔پہلی روایت ( میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری سنت)مختلف کتبِ حدیث وغیرہ میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکور ہے،"مسند البزار"، المستدرك على الصحيحين للحاكم"، "السنن الكبرى للبيهقي"    وغیرہ میں بالکل انہی الفاظ میں مذکور ہےجن کا ترجمہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے۔"مسند البزار"کی روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:

"حدَّثنا أحمد بن منصور بن سيَّار، قال: حدَّثنا داود بن عمرو، قال: حدَّثنا صالح بن موسى بن عبد الله بن طلحة، قال: حدَّثني عبد العزيز بن رُفَيْعٍ عن أبي صالح عن أبي هريرة -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم-: إني قد خلفتُ فيكم اثنين، لن تضِلُّوا بعدهما أبدًا: كتاب الله وسُنَّتي، ولن يتفرَّّقا حتى يرِدا علىَّ الحوض".

(مسند البزار، 15/385، رقم: 8993، ط: مكتبة العلوم والحكم - المدينة المنورة/ المستدرك، كتاب العلم، 1/172، رقم: 319، ط: دار الكتب العلمية/السنن الكبرى، 10/195، رقم: 20337، ط: دار الكتب العلمية)

ترجمہ:

’’(حضرت) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں(ہدایت اور رہنمائی کے لیے) تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑکر جا رہا ہوں، جب تک تم اُنہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہوگے: ا۔اللہ کی کتاب،۲۔ اورمیری سنت۔ اور یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گی، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گی‘‘۔

مذکورہ بالا کتبِ حدیث میں تو یہ روایت:" كتاب الله وسُنَّتي" کے الفاظ سے مذکور ہے، البتہ دیگر  کتبِ حدیث میں یہ روایت اس کے ہم معنی  الفاظ :"كتاب  الله وسنة رسوله"سے مذکور ہے۔نیز    "صحيح مسلم"کی ایک روایت میں اس  روایت کی اصل  بھی موجود   ہے،  جس سے مذکورہ روایت کے مضمون  کی تائید ہوتی ہے، لہذا  مذکورہ روایت کو بیان کیا جاسکتا ہے۔

۲۔دوسری روایت:( میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت اہلِ بیت)"سنن الترمذي"، "مسند أحمد"، "المعجم الكبير للطبراني"، "السنن الكبرى للنسائي"ودیگر کتبِ حدیث میں الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ مذکور ہے۔ "مسند أحمد" کی روایت کے االفاظ درج ذیل ہیں:

"حدَّثنا الأسود بن عامر، حدَّثنا شريك عن الرُّكَيْنِ عن القاسم بن حسَّان عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: إني تارك فيكم خليفتين: كتاب الله، حبلٌ ممدود ما بين السَّماء والأرض، أو ما بين السَّماء إلى الأرض، وعِتْرَتِيْ أهل بيتي، وإنَّهما لن يتفرَّقا حتى يرِدا عليَّ الحوض".

(مسند أحمد، 35/456، رقم: 21578، ط: مؤسسة الرسالة/ سنن الترمذي، 5/662، رقم: 3786، ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي/ المعجم الكبير، 5/154، رقم: 4923، ط: مكتبة ابن تيمية/ السنن الكبرى للنسائي، 7/310، رقم: 8092، ط: مؤسسة الرسالة)

ترجمہ:

’’(حضرت) زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:میں تمہارے درمیان دو عظیم چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں: ا۔اللہ کی کتاب، جو آسمان اور زمین کے درمیان،  یا یوں فرمایا کہ :آسمان  سے زمین تک پھیلی ہوئی ایک مضبوط رسی ہے،۲۔ اور  میری عترت ،یعنی میرے اہلِ بیت۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر میرے پاس پہنچ جائیں گے‘‘۔

مذکورہ روایت سند کے اعتبار سے ’’حسن‘‘ ہے،لہذا اسے بیان کیا جاسکتا ہے۔

مذکورہ بالا  دونوں روایتوں میں جو  اللہ کی کتاب کو مضبو طی سے تھامنے کو فرمایا ہے  ،اُس سے مراد اللہ کی کتاب  پر عمل کرنا ،یعنی اُس کے اوامر کو بجالانا اور اُس  کے نواہی سے بچنا ہے۔اور عترت،یعنی اہلِ بیت    کو مضبوطی سے تھامنے کو جو فرمایا ہے اُس سے مراد  اہلِ بیت  سے محبت رکھنا ، اُن کے احترام  کا خیال رکھنا، اور اُن کی سیرت وطریقہ  اگر دین وشریعت کے خلاف نہ ہو تو اس پر عمل کرنا ہے۔اور سنت کو مضبوطی سے تھامنے سے مراد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس طریقہ  کی پیروی کرنا ہے جسے آپ دےکر بھیجے گئے ہیں۔

"جامع بيان العلم وفضله"میں ہے:

"وبهذا الإسناد عن النبي -صلى الله عليه وسلم- أنه قال: تركتُ فيكم أمرين لن تضِلُّوا ما تمسَّكتم بهما: كتاب الله وسنة رسوله".

(جامع بيان العلم وفضله، باب فساد التقليد ونفيه والفرق بين التقليد والاتباع، 2/223، رقم: 951، ط: مؤسسة الريان)

 "صحيح مسلم"میں ہے:

"حدَّثنا أبو بكر بن أبي شيبة وإسحاق بن إبراهيم، جميعًا عن حاتم، قال أبو بكر: حدَّثنا حاتم بن إسماعيل المدني عن جعفر بن محمد عن أبيه، قال: دخلنا على جابر بن عبد الله  ... (إلى أن ذكر قول النبي - صلى الله عليه وسلم-): وقد تركتُ فيكم ما لن تضِلُّوا بعده إن اعتصمتم به، كتاب الله ... إلخ".

(صحيح مسلم، كتاب الحج، باب حجة النبي -صلى الله عليه وسلم-، 2/886، رقم: 1218، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

"مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"میں ہے:

"حدَّثنا الأسود بن عامر، حدَّثنا شريك عن الرُّكَيْنِ عن القاسم بن حسَّان عن زيد بن ثابت -رضي الله عنه- قال: قال رسول الله -صلّى الله عليه وسلّم-: إني تارك فيكم خليفتين: كتاب الله-عزَّ وجلَّ- حبلٌ ممدود ما بين السَّماء والأرض، أو ما بين السَّماء إلى الأرض، وعِتْرَتِيْ أهل بيتي، وإنَّهما لن يتفرَّقا حتى يرِدا عليَّ الحوض. رواه أحمد، وإسناده جيِّد". 

(مجمع الزوائد، كتاب المناقب، باب في فضل أهل البيت -رضي الله عنهم-،  9/256، رقم: 14957، ط: دار الفكر - بيروت)

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں ہے:

"والمراد بالأخذ بهم التمسُّك بمحبتهم ومحافظة حرمتهم والعمل بروايتهم والاعتماد على مقالتهم، وهو لا ينافي أخذ السنة من غيرهم لقوله - صلّى الله عليه وسلّم-:  أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم؛  ولقوله تعالى: {فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ} [النحل: 43] وقال ابن الملك: التمسُّك بالكتاب العمل بما فيه، وهو الائتمار بأوامر الله والانتهاء بنواهيه، ومعنى التمسُّك بالعترة محبَّتهم والاهتداء بهديهم وسيرتهم. زاد السيِّد جمال الدين: إذا لم يكن مخالفًا للدين. قلتُ: بإطلاقه - صلّى الله عليه وسلّم - إشعار بأن من يكون من عترته في الحقيقة لا يكون هديه سيرته إلا مطابقًا للشريعة والطريقة". 

(مرقاة المفاتيح، كتاب المناقب، باب مناقب أهل بيت النبي -صلى الله عليه وسلم-،  9/3974، رقم: 6152، ط: دار الفكر - بيروت)

"التيسير بشرح الجامع الصغير"میں ہے:

"(تركتُ فيكم) أي: إنى تارك فيكم بعدي كما عبَّر به في رواية (شيئين، لن تضِلُّوا بعدهما: كتاب الله وسنَّتي) أي: طريقتي التي بُعِثْتُ بها".

(التيسير، حرف التاء، 1/447، ط: مكتبة الإمام الشافعي- الرياض)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144709100927

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں