
کیا درج ذیل حدیث، حدیث کی کتاب’’ جمع الجوامع‘‘ میں موجود ہے ؟رہنمائی کیجیے:
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں : اس امت میں اللہ پاک کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ معزز شخصیت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کی ہے، اور اُن کا رتبہ سب سے زیادہ بلند ہے؛ کیوں کہ اُنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے قرآنِ مجید کو جمع کرنا شروع کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو اُس کی قدیم حسن و خوبیوں کے ساتھ قائم فرمایا۔
سوال میں "جمع الجوامع"کے حوالے سے جس روایت کا ذکر کرکے اُس کی تخریج وتحقیق کے متعلق دریافت کیا گیا ہے، مذکورہ روایت"جمع الجوامع"ودیگر کتبِ حدیث میں تلاش کے باوجود ہمیں مذکورہ تفصیل کے ساتھ نہیں مل سکی ، لہذا جب تک کسی معتبر سند سے اس کا ثبوت نہ مل جائے اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرکے بیان کرنے سے احترا ز کیا جائے ۔
البتہ "المعجم الكبير للطبراني"،"مسند الشاميين للطبراني"، "جمع الجوامع للسيوطي"ودیگر کتبِ حدیث میں ایک طویل روایت مذکور ہے جس میں مذکورہ روایت کے ابتدائی حصے سے ملتے جلتے الفاظ مذکور ہیں اور اُس روایت کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ "المعجم الكبير للطبراني" کی اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حدَّثنا عمرو بن إسحاق بن إبراهيم بن العلاء، ثنا أبي، ح وحدَّثنا عُمارة بن وَثِيْمَة بن موسى بن الفرات أبو رِفاعة المصري، قال: ثنا إسحاق بن زِبْرِيْق الحمصي، ثنا عمرو بن الحارث عن عبد الله بن سالم عن الزُّبَيْدِيِّ، حدَّثني محمَّد بن مسلم الزهري عن سالم عن ابن عمر-رضي الله عنه- قال: كنا نقول ورسول الله -صلَّى الله عليه وسلَّم- حي: أفضل هذه الأُمَّة بعد نبيها أبو بكر وعمر وعثمان، ويسمع ذلك النبي صلَّى الله عليه وسلَّم-، ولا يُنكره".
(المعجم الكبير، باب العين، 12/285، رقم: 13132، ط: مكتبة ابن تيمية - القاهرة)
ترجمہ:
’’(حضرت) ابنِ عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ کی حیاتِ طیبہ میں یوں کہا کرتے تھے:اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل اور بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر ہیں، پھر عثمان ہیں،نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن رہے ہوتے تھے اور آپ اس پر نکیر نہیں فرماتے تھے‘‘۔
اور "جمع الجوامع"میں مذکورہ روایت بحوالہ "تاريخ دمشق لابن عساكر"درج ذیل الفاظ میں مذکور ہے:
"عن ابن شهاب عن عبد الله بن كثير قال: قال لي على بن أبى طالب -رضي الله عنه-: أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر ... إلخ".
(جمع الجوامع، القسم الثاني، مسند علي بن أبي طالب -رضي الله عنه-، 17/713، رقم: 1003، ط: الأزهر الشريف - القاهرة)
ترجمہ:
’’(حضرت) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:اس امت میں نبی کے بعد سب سے افضل اور بہتر ابوبکر ہیں،پھر عمر ہیں ۔۔۔الخ‘‘۔
"مجمع الزوائد ومنبع الفوائد"میں ہے:
"وعن ابن عمر-رضي الله عنهما- قال: كنا نقول ورسول الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - حي: أفضل هذه الأمة بعد نبيها أبو بكر وعمر وعثمان، ويسمع ذلك النبي -صلَّى الله عليه وسلَّم- ما يُنكره، ... إلخ. قلتُ: في "الصحيح" طرف من أوله. رواه الطبراني في "الأوسط" و"الكبير" بنحوه باختصار، إلَّا أنه قال: "أبو بكر وعمر وعثمان، ثُمَّ استوى النَّاس فيبلغ ذلك رسولَ الله - صلَّى الله عليه وسلَّم - فلا ينكره علينا". وأبو يعلى بنحو الطبراني الكبير، ورجاله وُثِّقوا، وفيهم خِلافٌ".
(مجمع الزوائد، كتاب المناقب، باب فيما ورد من الفضل لأبي بكر وعمر وغيرهما من الخلفاء وغيرهم، 9/58، رقم: 14385، ط: مكتبة القدسي - القاهرة)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144606101231
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن