
درج ذیل حدیث، احادیث کی کتابوں میں موجود ہے؟ رہنمائی فرمائیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: غصہ شیطان ( کے اثر ) سے ہوتا ہے، اور شیطان کی پیدائش آگ سے ہوئی ہے ،اور آگ پانی سے بجھائی جاتی ہے، لہذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وضو کرلے۔
سوال میں جس روایت کا ترجمہ ذکر کرکے اس کے متعلق دریافت کیا گیا ہے، یہ روایت "سنن أبي داود"، "مسند أحمد"، "شعب الإيمان"ودیگر کتبِ احادیث میں مذکور ہے۔"سنن أبي داود"میں اس روایت کے الفاظ درج ذیل ہیں:
"حدّثنا بكر بنُ خَلَفٍ والحسن بنُ علِيٍّ المعنَى، قَالا: حدّثنا إبراهيم بنُ خالدٍ، حدّثنا أبو وائلٍ القاصُّ، قال: دخلْنَا علَى عُروة بنِ محمّدٍ السّعديِّ، فكلّمه رجلٌ فأغضبَه، فقام فتوضّأ، ثُمّ رجعَ وقد توضّأ، فقال: حدّثني أبِيْ، عنْ جدِّيْ عطيّة-رضي الله عنه- قال: قال رسولُ الله -صلّى الله عليه وسلّم-: إنّ الغضبَ مِنَ الشّيطانِ، وإنّ الشّيطانَ خُلِق مِنَ النّارِ، وإنّما تُطْفأ النّارُ بِالماءِ، فإذا غضبَ أحدُكم فليتوضّأْ".
(سنن أبي داود، كتاب الأدب، باب ما يقال عند الغضب، 4/249، رقم:4784، ط: المكتبة العصرية، صيدا - بيروت)
ترجمہ:
’’(حضرت) عطیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:(ناحق) غصہ شیطانی اثر ہے(یعنی ناحق غصہ کرنا شیاطین کے مشتعل کرنے اور اُس کے فریب میں آجانے کا نتیجہ ہوتا ہے ) اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے، اور آگ کو پانی سے بجھایا جاتا ہے، اس لیے جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اس کو چاہیے کہ وضو کرلے‘‘۔
علامہ مناوی رحمہ اللہ"التيسير بشرح الجامع الصغير"میں لکھتے ہیں:
"(حم د) في الأدبِ (عنْ عطيّة) بنِ عروة (العوفي) صحابيٌّ يُعدُّ في الشّاميين، وسكت عليه أبو داود فهو صالِحٌ".
(التيسير، حرف الهمزة، 1/297، ط: مكتبة الإمام الشافعي- الرياض)
ترجمہ:
’’یہ روایت "مسند أحمد"اور"سنن أبي داود"کی "كتاب الأدب"میں (حضرت) عطیہ بن عروہ العوفی (رضی اللہ عنہ )سے مروی ہے، یہ ایک صحابی ہیں جو شامیین میں شمار ہوتے ہیں۔نیز اس روایت کو ذکر کرکے (امام) ابوداود (رحمہ اللہ ) نے سکوت فرمایا ہےتو یہ صالح(یعنی حسن ہے)‘‘۔
مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ روایت:"إنّ الغضبَ مِنَ الشّيطانِ، وإنّ الشّيطانَ خُلِق مِنَ النّارِ، وإنّما تُطْفأ النّارُ بِالماءِ، فإذا غضبَ أحدُكم فليتوضّأْ"سند کے اعتبار سے صالح یعنی حسن ہے ،لہذا اسے بیان کیا جاسکتا ہے۔
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144501102371
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن