بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رشوت میں جعلی نوٹ دینا


سوال

اگر کسی دکان دار کے پاس جعلی نوٹ آجائے اور وہ رشوت میں اس جعلی نوٹ کو استعمال کرے تو  یہ جائز ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ رشوت دینا اور لینا دونوں ہی ناجائز اور حرام ہیں، رشوت لینے والے اور دینے والے دونوں پر لعنت کی گئی ہے، اور اس پر بہت سخت وعیدیں آئی ہیں، راشی ( رشوت دینے والا) اور مرتشی (رشوت لینے والا) دونوں ہی گناہ گار ہوتے ہیں،  ان  پر توبہ واستغفار  لازم ہے۔

 البتہ اگر  کسی شخص کا حق ثابت ہو اور  دستاویزات اور قانونی تقاضوں کے مطابق وہ حق پر ہو،  اور اس کے ثابت شدہ حق کی ادائیگی کے لیے اس سے رشوت کا مطالبہ کیا جارہا ہو تو     پہلے تو وہ کوشش کرے کہرشوت دیے  بغیر  کسی طرح اس کا کام ہوجائے،   لیکن اگر کسی طرح بھی رشوت دیے بغیر  اس کا کام نہ ہو اور وہ مجبوری  میں پیسے دےدے تو دینے والے پر اس کا مواخذہ نہیں ہوگا، البتہ لینے والا گناہ گار ہوگا۔ 

جب کہ دوسری طرف جعلی نوٹ  بنانا ، یا اس کا استعمال کرنا شرعًا جعل سازی، جھوٹ، دھوکا  اور خیانت  جیسے  گناہوں پر مشتمل ہونے کے  ساتھ  ساتھ  انتظامی  قوانین  کی رو  سے سخت  قابلِ  تعزیر  جرم ہے،  لہذا ایسے نوٹوں کا  بنانا یا استعمال کرنا  جائز نہیں ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ دکان دار  ناجائز طور رشوت دے رہا ہو تو  اس کا یہ دینا ہی جائز نہیں، اور اگر ثابت شدہ حق کے لیےمجبوری میں دے رہا تو  ایسی صورت میں متعلقہ  شخص  کو حیلہ سے کچھ نہ دینا یا  غیر متقوم مال  دے دینا  اگرچہ گناہ نہیں ہے، تاہم چوں کہ جعلی نوٹ کا چلن  معاشرے میں جعل سازی، جھوٹ اور دھوکہ دہی کو فروغ دے گا، بہت سے سادہ لوح لوگ اس  کی وجہ سے نقصان میں  پڑجائیں، اور  یہ انتظامی قوانین کی رو  سے سخت جرم ہے، لہذا ایسی صورت میں بھی  جعلی نوٹ نہ دیے جائیں، ظلم کے تدراک کے لیے ظلم کی اجازت نہیں۔

 سنن أبی داود  میں ہے:

"عن أبي سلمة، عن عبد الله بن عمرو، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي»." 

 (کتاب الأقضیة، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث: 3580، 3/ 300، ط: المکتبة العصریة)

مرقاة المفاتیح میں ہے:

"(وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما) : بالواو (قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي» ) : أي: معطي الرشوة وآخذها، وهي الوصلة إلى الحاجة بالمصانعة، وأصله من الرشاء الذي يتوصل به إلى الماء، قيل: الرشوة ما يعطى لإبطال حق، أو لإحقاق باطل، أما إذا أعطى ليتوصل به إلى حق، أو ليدفع به عن نفسه ظلماً فلا بأس به، وكذا الآخذ إذا أخذ ليسعى في إصابة صاحب الحق فلا بأس به، لكن هذا ينبغي أن يكون في غير القضاة والولاة؛ لأن السعي في إصابة الحق إلى مستحقه، ودفع الظالم عن المظلوم واجب عليهم، فلايجوز لهم الأخذ عليه."

(کتاب الأمارة والقضاء، باب رزق الولاة وهدایاهم، الفصل الثاني، 7/ 295، ط: دارالکتب العلمیة)  

الدر مع الرد میں ہے:

"الكذب مباح لإحياء حقه ودفع الظلم عن نفسه،والمراد التعريض؛ لأنّ عين الكذب حرام، قال وهوالحق قال تعالى:﴿قتل الخرّاصون ﴾."

(كتاب الحظر و الإباحة، باب الإستبراء وغيره،9/ 612،دارالكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101075

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں