بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رشوت کے ذریعے بھائیوں کے حصے اپنے نام کروانے کا حکم


سوال

زید نے اپنی زندگی میں اپنے چار بیٹوں میں سے تین بیٹوں کو کچھ جائیداد نام کر کے قبضہ و تصرف کے ساتھ دے دی، جبکہ ایک بیٹے، ایک بیٹی اور بیوہ کو کچھ نہیں دیا، البتہ ان کے لیے باقی جائیداد کا وصیت نامہ لکھا، زید کے انتقال کے بعد اُس بیٹے نے  جسے زندگی میں کچھ نہیں ملا تھا مافیا کو رشوت دے کر ہر بھائی کے حصے میں سے کچھ حصہ اپنے نام کروالیا، اب سوال یہ ہے کہ زید کے اس بیٹے کا یہ عمل شرعاً درست ہے یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعۃً زید نے اپنی زندگی میں اپنی کچھ جائیداد اپنے چار بیٹوں میں سے تین بیٹوں کے نام کر کے، قبضہ و تصرف کے ساتھ انہیں دے دی تھی، تو وہ جائیداد زید کی ملکیت سے نکل کر ان تینوں بیٹوں کی ملکیت میں داخل ہوگئی تھی۔ لہٰذا زید کے مذکورہ بیٹے  کا اپنے بھائیوں کے ملکیتی حصے کو اپنے نام کروانے کا عمل شرعاً جائز نہیں ہے۔

البتہ زید کا اپنی زندگی میں تین بیٹوں کو دینا اور باقی ورثاء (بیٹا، بیٹی اور بیوی) کو محروم کرنا شرعاً درست نہیں تھا، جس کی وجہ سے زید گناہ گار ہوا، زید کے حق میں استغفار کیا جائے، اب اس کے ازالہ کی صورت یہ ہے کہ زید کے مذکورہ تینوں بیٹے اپنے والد کی اہلیہ یعنی اپنی والدہ کو اتنا مال دے دیں جو کل مال کے آٹھویں حصے کے بقدر ہو، اور دیگر بھائی بہن کو بھی اتنا مال دے دیں کہ جس سے ان کا حصہ بھی ان تینوں کے برابر ہوجائے، یا ان تمام افراد (جنہیں زید نے محروم رکھا تھا) کو کچھ مال وغیرہ دے کر راضی کرلیں۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"عن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ‌إني ‌نحلت ‌ابني ‌هذا ‌غلاما فقال: أكل ولدك نحلت مثله؟ قال: لا.قال: فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم."

(ج: 2،ص: 909، رقم: 3019، ط: المكتب الإسلامي - بيروت)

"ترجمہ :حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کے والد انھیں لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام ہبہ (تحفہ) کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اپنے تمام بچوں کو ایسا ہی دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔"

بدائع الصنائع میں ہے:

"أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض."

(كتاب الهبة، فصل في حكم الهبة، ج: 6، ص: 127، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي."

(كتاب الحدود، باب التعزير، ج:4، ص:61، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144705101267

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں