
مسئلہ یہ ہے کہ تعمیرات کا نقشہ گرونڈ پلس دو منزل کا ہے اگر ہم کسی سرکاری افسر کو پیسے دے کر چھت پر یعنی دومنزل کے بعد مزید پینٹ ھاؤس بنوالے تو یہ جائز ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر قانونا دو منزل کے بعد مزید منزل بنانے کی اجازت نہیں ہے تو کسی سرکاری افسر کو رشوت کی مد میں پیسے دے کر چھت پر پینٹ ہاؤس بنانا شرعاً جائز نہیں ہے۔
سنن أبي داود میں ہے:
"حدثنا أحمد بن يونس، حدثنا ابن أبي ذئب، عن الحارث بن عبد الرحمن، عن أبي سلمةعن عبد الله بن عمرو، قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم الراشي والمرتشي."
ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی۔
(أول کتاب الأقضیة،باب في كراهية الرشوة،ج:5،ص:433،ط:دار الرسالة العالمية)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100281
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن