
کیا رشتہ آنے کے لیے استخارہ کر سکتے ہیں؟
کسی جائزمعاملہ میں جب تردد ہو تواس کی بہتری والی جہت طلب کرنےکےلیےاستخارہ کیا جاتا ہے۔
صورتِ مسئولہ میں محض رشتہ آنے کے لیے استخارہ نہیں بلکہ دعا کی جائے کہ!” اے اللہ نیک، مناسب اور بابرکت رشتہ عطا فرما“، البتہ جب کوئی رشتہ آجائے تو اس میں قبول کرنے یا نہ کرنے دونوں پہلو میں سے کسی ایک بہتری والی جہت کو متعین کرنے کے لے استخارہ کیا جائے۔
البحر الرائق میں ہے:
"(قوله ومن المندوبات صلاة الاستخارة) قال الشيخ إسماعيل وفي شرح الشرعة من هم بأمر وكان لا يدري عاقبته ولا يعرف أن الخير في تركه أو الإقدام عليه.....الخ"
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، الصلاۃ المسنونة کل یوم، ج:2، ص:56، ط:دار الکتاب الإسلامي)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144708100716
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن