بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

رہائشی علاقوں میں ایسی فیکٹری کا ہونا جس سے لوگوں کو نقصان پہنچے


سوال

 ایک شہر میں پسماندہ علاقہ سے متصل کچھ سٹیل کمپنیاں واقع ہیں جن میں سے ایک کمپنی کو گورنمنٹ نے آرڈر بھی کیا ہوا تھا کہ وہ اپنی کمپنی دوسری جگہ ٹرانسفر کردے ،مگر باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا کہ حکومتی کارندوں سے ساز باز کرکے اس ٹرانسفر آرڈر کو کینسل کروایا،کمپنیوں کا زہریلا دھواں آس پاس کے گھروں میں پورے سال گھستا رہتا ہے، مگر کمپنی والے دھویں کے نقصاندہ ہونے کے علم کے باوجود اپنی کمپنی کو دوسری جگہ ٹرانسفر نہیں کرتے اور گورنمنٹ نے پولیوشن کی روک تھام کے لئے جو قوانین بنائے ہیں اس کا بھی لحاظ نہیں کرتے اور جو کوئی اس کے خلاف آواز اٹھاتا اسے رشوت دیکر یا دھاک دھمکی سے خاموش کر دیتے ہیں مذکورہ تمہید کی روشنی میں درج ذیل سوالوں کا جواب مرحمت فرما کر شرعی رہبری فرمائیں:

(1)کیا کمپنی والوں کو حیثیت ہونے کے باوجود اپنی کمپنی دوسری جگہ ٹرانسفر نہیں کرنی چاہیے؟

(2)کیا جو کمپنی اپنے آس پاس کے پسماندہ علاقے کے رہنے والوں کی صحت کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہو اس کمپنی میں نوکری کرنا جائز ہے؟

(3)کیا اہل مدارس کو ایسی کمپنی والوں کے پاس سے چندہ وصول کرنا چاہیے؟

(4)کیا جو کمپنی والے اپنے آس پاس کے علاقے کے چھوٹے چھوٹے بچوں کی صحت کی پروا نہ کرتی ہو اور ہزار فہمائش کے بعد بھی نہ سمجھتے ہوں ان سے تعلقات رکھ سکتے ہیں؟

(5)کیا ایسی کمپنی والوں کے رفاہی امور سے شہر والوں کو نفع اٹھانے کی اجازت ہے؟

جواب

۱) صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ فیکٹریوں سے  پیدا ہونے والاد ھواں  اور زہریلہ مادہ  لوگوں اور بچوں کے لیے تکلیف کا باعث ہے اور ان  کی صحت کے نقصان کا غالب گمان ہے اور ان ہی جوہ کی بناء پر حکومت وقت کی طرف سے بھی اس طرح کی فیکٹروں پر پابندی بھی ہے تو پھر فیکٹری والوں کو چاہیے کہ کسی دوسری جگہ جلد از جلد اپنی فیکٹری منتقل کریں۔ لوگوں کو ایذا پہنچانے کا ذریعہ بن کر اور حکومتی قانون کی مخالفت کر کے اپنی آخرت خراب نہ کریں۔نیز حکومتی اداروں کو رشوت دے کر یا دیگر ذرائع استعمال کرکے کام یہیں جاری رکھنا شرعا  جائز نہیں ہے۔

۲) کمپنی کے مالکان کے اس فعل کی وجہ سے  اس کمپنی میں نوکری کرنے کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا، ہاں اگر لوگ کمپنی والوں کو تنبیہ کرنے کی خاطر اس کمپنی میں نوکری کرنے سے پرہیز کریں تو پھر یہ ان کا اختیار ہے۔

۳)  چندہ وصول کرنا بھی جائز ہے، کیوں کہ اس عمل سے ان فیکٹری والوں کی آمدن حرام نہیں ہوئی ہے، ہاں اہلِ مدارس کے لیے بہتر یہ ہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو تہمت سے بچائیں اور جس ادارہ سے مفاد عامہ کو نقصان ہو رہا ہے ان سے چندہ وصول نہ کریں۔

۴) ان فیکٹری والوں کو تنبیہ کرنے کی خاطر ہر جائز اور قانونی راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے، لیکن اس عملی کوتاہی کی بناء پر قطع تعلق کا حکم نہیں دیا جاسکتا، کیوں کہ فی نفسہ وہ یہ سارا کام اپنے ذاتی ملکیت کی جگہ پر کر رہے ہیں اور اگر اس معاملہ کے دوسرے پہلو کو دیکھا جائے تو ہر شخص کو اپنی ذاتی ملک میں تصرف کرنے کا اختیار ہے، لیکن چوں کہ اس اختیار کو استعمال کرنے کی صورت میں اگر واقعی  لوگوں کو ضرر پہنچ رہا ہے تو شریعت نے  اس کی گنجائش بھی دی ہے کہ حکومتِ  وقت ان کو اس عمل سے روک دے،  لہذا قانونی ذرائع کو استعمال کرکے ان کو دوسری جگہ منتقل کروایا جائے۔

۵) جائز ہے۔ 

الاشباہ و النظائر میں ہے:

"تنبيه: يتحمل الضرر الخاص؛ لأجل دفع ضرر العام. وهذا مقيد لقولهم: الضرر لا يزال بمثله وعليه فروع كثيرة:.....ومنها: منع اتخاذ حانوت للطبخ بين البزازين، وكذا كل ضرر عام، كذا في الكافي وغيره. وتمامه في شرح منظومة ابن وهبان من الدعوى."

(الفن الاول، القواعد الکلیۃ،ص:۷۴،دار الکت العلمیۃ)

فتاوی شامی میں ہے:

"(ولا يمنع الشخص من تصرفه في ملكه إلا إذا كان الضرر) بجاره ضررا (بينا) فيمنع من ذلك وعليه الفتوى بزازية، واختاره في العمادية وأفتى به قارئ الهداية، حتى يمنع الجار من فتح الطاقة، وهذا جواب المشايخ استحسانا، وجواب ظاهر الرواية عدم المنع مطلقا وبه أفتى طائفة، كالإمام ظهير الدين وابن الشحنة ووالده ورجحه في الفتح وفي قسمة المجتبى وبه يفتى، واعتمده المصنف ثمة فقال: وقد اختلف الإفتاء، وينبغي أن يعول على ظاهر الرواية اهـ قلت: وحيث تعارض متنه وشرحه فالعمل على المتون كما تقرر مرارا فتدبر. قلت: وبقي ما لو أشكل هل يضر أم لا، وقد حرر محشي الأشباه المنع -

(قوله واختاره في العمادية) حيث قال كما في جامع الفصولين والحاصل أن القياس في جنس هذه المسائل أن من تصرف في خالص ملكه لا يمنع منه ولو أضر بغيره لكن ترك القياس في محل يضر بغيره ضررا بينا وقيل بالمنع وبه أخذ كثير من مشايخنا وعليه الفتوى اهـ.

قلت: قوله وقيل بالمنع عطف تفسير على قوله ترك القياس فليس قولا ثالثا، نعم وقع في الخيرية: وقيل بالمنع مطلقا إلخ، ومقتضاه أنه قول ثالث بالمنع سواء كان الضرر بينا أو لا لكن عزا في الخيرية ذلك إلى التتارخانية والعمادية وليس ذلك في العمادية كما رأيت، فالظاهر أن لفظ مطلقا سبق قلم؛ ويدل عليه قوله في الفتح: والحاصل أن القياس في جنس هذه المسائل أن يفعل المالك ما بدا له مطلقا لأنه متصرف في خالص ملكه لكن ترك القياس في موضع يتعدى ضرره إلى غيره ضررا فاحشا وهو المراد بالبين وهو ما يكون سببا للهدم، أو يخرج عن الانتفاع بالكلية وهو ما يمنع الحوائج الأصلية كسد الضوء بالكلية واختاروا الفتوى عليه فأما التوسع إلى منع كل ضرر ما فيسد باب انتفاع الإنسان بملكه كما ذكرنا قريبا اهـ ملخصا فانظر كيف جعل المفتى به القياس الذي يكون فيه الضرر بينا لا مطلقا، وإلا لزم أنه لو كانت له شجرة مملوكة يستظل بها جاره وأراد قطعها أن يمنع لتضرر الجار به كما قرره في الفتح قبله.

قلت: وأفتى المولى أبو السعود أن سد الضوء بالكلية ما يكون مانعا من الكتابة فعلى هذا لو كان للمكان كوتان مثلا فسد الجار ضوء إحداهما بالكلية لا يمنع إذا كان يمكن الكتابة بضوء الأخرى، والظاهر أن ضوء الباب لا يعتبر لأنه يحتاج لغلقه لبرد ونحوه كما حررته في تنقيح الحامدية. وفي البحر: وذكر الرازي في كتاب الاستحسان لو أراد أن يبني في داره تنورا للخبز الدائم كما يكون في الدكاكين أو رحى للطحن أو مدقات للقصارين لم يجز لأنه يضر بجيرانه ضررا فاحشا لا يمكن التحرز عنه فإنه يأتي منه الدخان الكثير، والرحى والدق يوهن البناء، بخلاف الحمام لأنه لا يضر إلا بالنداوة ويمكن التحرز عنه بأن يبني حائطا بينه وبين جاره، بخلاف التنور المعتاد في البيوت اهـ وصحح النسفي في حمام أن الضرر لو فاحشا يمنع وإلا فلا وتمامه فيه."

(کتاب القضاء، باب التحکیم،ج :۵،ص:۴۴۸، ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144504100330

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں