
میں ایک ہسپتال میں ٹرسٹی ہوں جو بغیر فائدہ یا نقصان کے چلائی جاتی ہے،ہمارے پاس زکوۃ کی مد میں کافی رقم آ تی ہے، کیا ہم زکوۃ یا ہسپتال کی اپنی رقوم کو مندرجہ ذیل اسکیمز کے تحت متعین آمدنی یا غیر متعین آمدنی کے طور پر کسی بھی اسلامی بینک میزان وغیرہ میں جمع کر کے اس کا منافع استعمال کر سکتے ہیں؟
اسلامی بینکوں کی کسی بھی اسکیم کے تحت پیسے رکھوا کر نفع کمانا شرعاً جائز نہیں ہے ، نیز زکوۃ اور صدقات اور ڈونیشن کی رقم کسی بھی کاروبار میں لگانا بھی شرعا جائز نہیں ہے ، اس لیے کہ ویلفیئر کے اداروں میں لوگ زکات وغیرہ کی رقوم غریبوں کی مدد کے لیےدیتے ہیں ، کاروبار کے لیے نہیں،جو ان کے پاس امانت ہوتی ہے اور زکوۃ کی رقم جب تک غریب کی ملکیت میں نہیں جائے گی تب تک زکوۃ بھی ادا نہیں ہوگی، لہذا یہ رقوم کسی بھی کاروبار میں نہیں لگائی جاسکتی، بلکہ جلد از جلد مستحقین تک پہنچانا لازم ہے ۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
" وأما حكمها فوجوب الحفظ على المودع وصيرورة المال أمانة في يده ووجوب أدائه عند طلب مالكه، كذا في الشمني.
الوديعة لاتودع ولاتعار ولاتؤاجر ولاترهن، وإن فعل شيئًا منها ضمن، كذا في البحر الرائق."
(كتاب الوديعة، الباب الأول في تفسير الإيداع الوديعة وركنها وشرائطها وحكمها، ٤ / ٣٣٨، ط: دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق میں ہے:
"وفي القنية ولا يجوز للقيم شراء شيء من مال المسجد لنفسه ولا البيع له وإن كان فيه منفعة ظاهرة للمسجد. اهـ.... أن القيم ليس له إقراض مال المسجد قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز. اهـ."
( كتاب الوقف، تصرفات الناظر في الوقف، ٥ / ٢٥٩، ط: دار الكتاب الإسلامي)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100432
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن