
ہم آپ سے نہایت ادب و احترام کے ساتھ اپنے ادارے اینجلز ویلفیر فاونڈیشن (AWF) کے لیے زکوٰۃ فنڈز کے حصول اور استعمال کے حوالے سے شرعی رہنمائی طلب کرتے ہیں۔
ہمارا ادارہ خصوصی طور پر معذور بچوں، بشمول آٹزم اور دیگر نشو و نمائی عوارض میں مبتلا بچوں کی خدمت میں مصروف عمل ہے ، جو عموما مالی طور پر کمزور گھرانوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
ہم ان بچوں کو مختلف خدمات فراہم کرتے ہیں جن میں تھراپی، خصوصی تعلیم ، ووکیشنل ٹرینگ ، اور کمیونٹی سپورٹ شامل ہیں، تاکہ ان کی زندگی کامعیار بہتر بنایا جاسکے اور انہیں معاشرے کا فعال حصہ بنایا جاسکے ، چوں کہ زکوۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے اور اس کی ادائیگی اور تقسیم شریعت کے مقرر کردہ اصولوں کے مطابق ہونا ضروری ہے، اس لیے ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ ہمارے تمام اقدامات مکمل طور پر شریعت کے مطابق ہوں ۔
اس سلسلے میں ہم آپ سے درج ذیل امور پر رہنمائی کے خواہاں ہیں :
1. کیا ہمارا ادارہ ایسے مستحق ( مصارف زکوۃ کے اہل) معذور بچوں کے لیے زکوۃ فنڈز جمع کر سکتا ہے ؟
2.زکوٰۃ کے درست اور جائز استعمال کے لیے کون سی شرعی شرائط (خصوصاً تملیک وغیرہ) کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے ؟
3. کیا تھراپی، تعلیم اور بحالی جیسے اخراجات کو زکوٰۃ فنڈز سے پورا کرنا شرعاً جائز ہے؟
ہم اس بات کے مکمل طور پر پابند ہیں کہ زکوٰۃ کی وصولی اور تقسیم کے تمام مراحل شریعت کے عین مطابق انجام دیے جائیں ، اور اس ضمن میں آپ کے معزز فتوئی کے طالب ہیں تاکہ ہم اپنی خدمات کو شرعی اصولوں کے مطابق جاری رکھ سکیں ۔
وضاحت:جن بچوں کی کفالت کی جاتی ہے، ان میں ذہنی اور جسمانی معذور بچے شامل ہوتے ہیں، اور وہ عمر کے لحاظ سے چھوٹے اور بڑے دونوں ہوتے ہیں۔
1-2: صورتِ مسئولہ میں مذکورہ ادارے کے تحت جن معذور بچوں کی کفالت کی جاتی ہے، ان میں جو بچے ذہنی معذوری کا شکار ہوں یا ناسمجھ ہوں اور مال پر قبضہ کرنا نہ جانتے ہوں، ایسے بچوں کی طرف سے زکوٰۃ صرف ان کے اولیاء(بشرطیکہ وہ خود زکوٰۃ کے مستحق ہوں )ہی وصول کر سکتے ہیں؛ ادارے کی انتظامیہ ان کی طرف سے زکوٰۃ وصول نہیں کر سکتی، البتہ جو بچے بالغ ہوں اور ذہنی طور پر معذور بھی نہ ہوں، ان کی اجازت سے ادارے کی انتظامیہ ان کی طرف سے زکوٰۃ وصول کر سکتی ہے۔
3:تھراپی، تعلیم اور بحالی جیسے اخراجات میں عطیات کی رقم خرچ کی جائے۔ یعنی ایسے مصارف کے لیے لوگوں کو ترغیب دے کر نفلی صدقات اور عام عطیات کی رقم استعمال کی جائے۔اسی طرح تملیک (یعنی ولی یا خود بچے کو، مذکورہ تفصیل کے مطابق، مالک بنانے) کے بعد زکوٰۃ کی رقم بھی ولی اور بچے کی رضامندی سے ادارے کی انتظامیہ ان پر خرچ کرسکتی ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز.
(قوله: إلى صبيان أقاربه) أي العقلاء وإلا فلايصح إلا بالدفع إلى ولي الصغير."
(کتاب الزکاۃ، باب المصرف، ج:2، ص: 356، ط: سعید)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(و) لا إلى (طفله) بخلاف ولده الكبير.
(قوله: ولا إلى طفله) أي الغني فيصرف إلى البالغ ولو ذكرا صحيحا قهستاني، فأفاد أن المراد بالطفل غير البالغ ذكرا كان أو أنثى في عيال أبيه أولا على الأصح لما عنده أنه يعد غنيا بغناه نهر (قوله: بخلاف ولده الكبير) أي البالغ كما مر."
(کتاب الزکوة، ج:2، ص: 349، ط:سعيد)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع كذا في التبيين."
(کتاب الزکاۃ، الباب الأول في تفسير الزكاة وصفتها وشرائطها، ج:1، ص:170، ط:دار الفکر)
البحر الرائق میں ہے:
" (قوله: وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم ؛ لحديث البخاري: «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة»، ولحديث أبي داود: «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة."
(کتاب الزکاۃ، باب مصرف الزكاة، ج:2، ص:265، ط:دار الکتاب الإسلامی)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."
(كتاب الزكاة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط:دار الفکر)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144710100272
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن