بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ربا کی کی جدید صورتیں اوران کے احکام


سوال

1-اصولی طور پر کن صورتوں میں پیسے سود کی شکل میں تبدیل ہوجاتے ہیں؟

2-بینک والے پورا سال رقوم کی ترسیل (transection)کی مد میں سال کے آخر میں کچھ رقم کی کٹوتی کرتے ہیں ، کیایہ جائز ہے یا ناجائز ہے؟

3-میزان بینک میں پیسے سیو کرنا کیسا ہے؟

4-عام بینک میں پیسے سیو کرنا کیسا ہے؟ 

جواب

1-اصولی طور پر  ’’قرض پر مشروط اضافہ‘‘   یعنی قرض دیتے وقت شرط لگا کر اضافی رقم یا نفع لینے سے  اصل رقم سے اضافی ملنے والے پیسے سود  کے زمرے میں آتے ہیں،  اگر شرط نہ لگائی لیکن عام عرف اور رواج یہی ہے کہ اضافہ کے ساتھ ہی قرض واپس ہوتا ہے ویسے نہیں، تو یہ بھی شرط کی طرح ہے اور حرام ہے۔ البتہ اگر معاملہ کرتے وقت صراحۃً اس کی شرط   نہ ہو  اور عرفاً اس کا رواج  بھی نہ ہو، بلکہ مقروض (قرض لینے والا)  کسی سابقہ معاہدے، شرط یا عرف و رواج کے بغیر ویسے ہی کوئی چیز قرض دینے والے کو ہدیہ میں دے تو یہ سود  شمار نہیں ہوگا۔

2- صورتِ مسئولہ میں بینک کے ذریعہ رقم کی منتقلی (ٹرانسفر) پر جواضافی رقم(چارجز) لی جاتی ہے، وہ بطورِ  اجرت (فیس) کے وصول کی جاتی ہے، لہٰذا اُس کا لینا دینا اس شرط کے ساتھ جائز ہوگا کہ اضافی رقم (چارجز)  متعین ہو(یعنی اتنے روپے ٹرانسفر کروانے پر اتنی فیس ہو گی، تو فیس کی رقم کی کٹوتی درست ہے۔

3-واضح رہے  کہ مروجہ غیر سودی بینک بشمول میزان بینک  والوں  کا اگرچہ یہ دعوی ہے کہ وہ علماءِ کرام کی نگرانی میں شرعی اصولوں کے مطابق کام کرتے ہیں، لیکن درحقیقت ان بینکوں کا طریقہ کارشرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہے،اس لیے  ان بینکوں میں بھی سیونگ اکاؤنٹ کھلواکر اس پر منافع لینا سود  ہونے کی وجہ سےشرعاً ناجائز  ہے،لہذا صورت ِ مسئولہ میں میزان بینک میں سیونگ اکاؤنٹ  کھلوانا اور اس پرمنافع لینا ناجائز  ہے۔

4: روایتی سودی بینک   میں سیونگ اکاؤنٹ کھلونا ہی جائز نہیں ہے، کیوں کہ اس میں سودی معاہدہ کرنا پڑتاہے، اور  سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھوانے پر بینک کی طرف سے جو منافع ملتا ہے وہ سود ہونے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے؛ لہٰذا بینک میں سیونگ اکاؤنٹ کھلوانے کی ہی اجازت نہیں ہے،اگر چہ وہ سود وصول نہ کیا جائے۔

الاشباہ  والنظائر میں ہے:

"العادة المطردة هل تنزل منزلة الشرط؟قال في إجارة الظهيرية: المعروف عرفا كالمشروط شرعا (انتهى) ."

(القاعدۃ السادسة،المبحث الثالث، ص:84، ط:دار الکتب العلمیة)

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"ومنها أن يكون المعقود عليه وهو المنفعة معلوما علما يمنع المنازعة فإن كان مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة يمنع صحة العقد وإلا فلا ... ومنها أن تكون الأجرة معلومة."

(کتاب الإجارۃ، الباب الأول تفسير الإجارة وركنها وألفاظها وشرائطها، ج:4ص:414، ط:دار الفکر)

اعلاء السنن میں ہے:

"عن علي أمير المؤمنين رضي الله عنه مرفوعا: كل قرض جر منفعة فهو ربا ... وقال الموفق: وكل قرض شرط فيه الزيادة فهو حرام بلا خلاف."

(كتاب الحوالة، باب كل قرض جر منفعة فهو ربا،ج: 14، ص: 512، ط: إدارة القرآن)

  رد المحتار علی الدر المختارمیں ہے:

"[مطلب كل قرض جر نفعا حرام]

(قوله: كل قرض جر نفعا حرام) أَي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن الْبحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإِن لم يكن النفع مشروطا في الْقرض، فعلي قول الْكرخي لا بأْس به ويأْتي تمامه."

(كتاب البيوع، باب المرابحة و التولية، فصل في القرض،ج:5، ص:166، ط: دار الفكر)

حاشية  چلپی میں ہے:

"(قوله: ومن وضع درهما عند بقال إلخ) قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا، وتأويل هذا عندنا أن تكون المنفعة موجبة بعقد القرض مشروطة فيه، وإن كانت غير مشروطة فيه فاستقرض غلة فقضاه صحاحا من غير أن يشترط عليه جاز، وكذلك لو باعه شيئا، ولم يكن شرط البيع في أصل العقد جاز ذلك، ولم يكن به بأس إلى هنا لفظ الكرخي في مختصره، وذلك؛ لأن القرض تمليك الشيء بمثله فإذا جر نفعا صار كأنه استزاد فيه الربا فلا يجوز؛ ولأن القرض تبرع وجر المنفعة يخرجه عن موضعه، وإنما يكره إذا كانت المنفعة مشروطة في العقد، وإذا لم تكن مشروطة فيه يكون المقترض متبرعا بها فصار كالرجحان الذي دفعه - صلى الله عليه وسلم - في بدل القرض، وقد روي عن ابن عمر أنه كان يستقرض فإذا خرج عطاؤه أعطاه أجود مما أخذ ."

(حاشية الشلبي بهامش تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الكراهية، فصل في البيع، ج:6، ص:29، ط: دار الكتاب الإسلامي)

 

الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے:

"ويتم التعبير عن هذا القرض بتسليم المقرض وَصْلاً (وثيقة) يثبت حقه في بدل القرض، ويكون المقترض وهو الصراف أو البنك ضامناً لبدل القرض، ولكنه يأخذ أجراً أو عمولة على تسليم المبلغ في بلد آخر مقابل مصاريف الشيك أو أجرة البريد أو البرقية أو التلكس فقط، لتكليف وكيل الصراف بالوفاء أو السداد.

وهذان العقدان: الصرف والتحويل القائم على القرض هما الطريقان لتصحيح هذا التعامل، فيما يبدو لي، والله أعلم.

 وأما‌‌ الحوالة البريدية في داخل الدولة بدون صرافة فجائزة بلا خلاف:

أـ فإن سُلّم المبلغ للموظف أمانة جاز بلا كراهة، ولا يضمنه إلا بالتعدي أو التقصير في الحفظ، لكن إذا خلطت المبالغ والحوالات ببعضها وهو مايتم بالفعل كانت مضمونة على المؤسسة.

ب ـ وإن أعطي المبلغ قرضاً دون شرط دفعه إلى فلان، ثم طلب من الموظف ذلك بعد القرض؛ جاز.

جـ ـ وإن أعطي المبلغ قرضاَ بشرط دفعه إلى فلان في بلد كذا، فإن لم يقصد المقرض ضمان المقترض خطر الطريق، جازت الحوالة بالاتفاق، وإن قصد بذلك ضمان خطر الطريق لم يصح العقد عند الجمهور كالسفتجة كما بينت في بحث القرض، وجازت المعاملة عند الحنابلة." 

(القسم الثالث، الفصل الأول، المبحث السادس، عقد الصرف، شرائطه، مایترتب علی اشتراط،ج:5، ص:3673، ط: دارالفکر)

 الدر مع الرد میں ہے:

"وفي الأشباه: ‌كلُّ ‌قرضٍ ‌جرَّ نفعاً حرامٌ .... (قوله: ‌كلُّ ‌قرضٍ ‌جرَّ نفعاً حرامٌ) أي إذا كان مشروطاً كما عُلم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة".

(کتاب البیوع، باب المرابحة والتولیة، مطلب کل قرض جرّنفعاً حرامٌ،ج:5،ص:166،ط:سعید)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

 وهو في الشرع عبارةٌ عن فضلِ مالٍ ‌لا ‌يُقابله ‌عوضٌ في معاوضة مالٍ بمالٍ وهو محرَّمٌ في كلِّ مكيلٍ وموزونٍ بِيعَ مع جنسه وعلّتُه القدر والجنس".

(کتاب البیوع، الباب التاسع، الفصل السادس، ج:3، ص:117، ط:دار االفکر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707101360

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں