
آج کل کافی لوگ عمرے پر جا رہے ہیں، مدینہ میں پہنچ کر ریاض الجنہ میں نوافل پڑھنے کی سب کی خواہش ہوتی ہے لیکن ریاض الجنۃ میں نوافل پڑھنے کے لیے پہلے اجازت نامہ یعنی پرمٹ لینا ہوتا ہے، پھر وہ آپ کو ریاض الجنۃ جانے دیتے ہیں، لیکن پرمٹ بہت مشکل سے ملتا ہے، بعض لوگوں کو پرمٹ لینے کا طریقہ نہیں آتا تو وہ ریاض الجنۃ نہیں جاسکتے، بہت سے لوگ مسجد نبوی میں ریاض الجنۃ کا پرمٹ کسی طریقے حاصل کرتے ہیں، اور 10 ریال سے 100 ریال تک سیل کرتے ہیں، اور اسی طرح کافی لوگ فیس بک انسٹاگرام پر ریاض الجنۃ کا پرمٹ سیل کرتے ہیں، ان میں سے کچھ پرمٹ دو نمبر ہوتے ہیں کچھ پرمٹ ٹھیک ہوتے ہیں، کیا ریاض الجنۃ کا پرمٹ سیل کرنا جائز ہے اور جو پرمٹ سے پیسے آتے ہیں کیا وہ حلال ہیں؟ وہ پیسے استعمال کر سکتے ہیں ۔
صورتِ مسئولہ میں ریاض الجنۃ کا پرمٹ ایک حق مجرد ہے، مال نہیں ہے اور حقوق مجردہ کی خرید وفروخت جائز نہیں کہ اسے فروخت کرنا یا خریدنا جائز ہو، کسی بھی چیز کی خرید وفروخت کے جائز ہونے کے لیے اس چیز کا مال ہونا ضروری ہے، لہذا اس پرمٹ کو فروخت کرکے کمانا جائز نہیں، بلکہ اس سے حاصل ہونے والے پیسوں کو اصل حقداروں کو واپس لوٹانا واجب ہےاور اگر لوٹانا ممکن نہ تو صاحب حق کی جانب سے بغیر ثواب کی نیت کرتے ہوئے وہ رقم صدقہ کردی جائے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف،
(قوله: لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة عن الملك) قال: في البدائع: الحقوق المفردة لا تحتمل التمليك ولا يجوز الصلح عنها. أقول: وكذا لا تضمن بالإتلاف قال: في شرح الزيادات للسرخسي وإتلاف مجرد الحق لا يوجب الضمان؛ لأن الاعتياض عن مجرد الحق باطل."
(كتاب البيوع، مطلب في بيع الجامكية، ج:4، ص:518، ط:سعيد)
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له ويتصدق به بنية صاحبه."
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:99، ط:سعيد)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144710100444
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن